
لاہور (عبدالصمد خاں) پنجاب کی کسان تنظیموں اور ارکان اسمبلی نے ورلڈ بینک کی تجویز کے مطابق 2021 ء تک محکمہ خوراک پنجاب کی کسانوں سے سالانہ گندم خریداری کو 40 لاکھ ٹن سے کم کرکے 10 لاکھ ٹن سٹری جیٹک ریزور تک محدود کرنیکی مخالفت کردی ہے، ملک کی سیاسی صورتحال کے سبب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی عالمی بینک کی یہ تجویز تسلیم کرنے کے حوالے سے صوبائی افسر شاہی کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے صوبے بھر میں بڑی تعداد میں سائیلوز سٹوریج کی سرکاری سہولت میسر ہونے تک موجودہ طریقہ کار کے تحت ہی کسانوں سے گندم خریداری جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ صوبائی حکومت نے ان افواہوں کی بھی سختی سے تردیدی کی ہے کہ محکمہ خوراک پنجاب کو ختم کردیا جائیگا۔ علاوہ ازیں محکمہ خوراک کے ملازمین کی نماندہ تنظیم نے سیکرٹری فوڈ کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ 59 لاکھ ٹن سرکاری گندم کی نکاسی کے بحران سے نمٹنے کیلئے 3 برس پرانی گندم کی سرکاری قیمت فروخت 1050 روپے فی من، 2 برس پرانی گندم کی 1100 روپے جبکہ ایک برس پرانی گندم کی قیمت فروخت 1200 روپے فی من مقرر کی جائے اور فلورملز کے ساتھ ساتھ فیڈ ملز کو بھی یہ گندم فروخت کرنے کی اجازت دی جائے۔ تفصیلات کے مطابق چند ماہ قبل ورلڈ بینک نے محکمہ پی اینڈ ڈی کے تعاون سے پنجاب میں "SMART” کے نام سے ایک منصوبے پر کام شروع کیا تھا جس کی ابتدائی تجاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محکمہ خوراک پنجاب کو گندم خریداری کے عمل سے باہر نکل جانا چاہیے اور صرف 10 لاکھ ٹن سالانہ گندم کے سٹری جیٹک ریزروز اپنے پاس رکھنے چاہئیں۔ اس حوالے سے محکمہ خوراک کیلئے 2021 کا سال تجویز کیا گیا۔ تجویز کے منظر عام پر آنے کے بعد سیاسی اور زرعی حلقوں میں شدید رد عمل سامنے آیا اور ارکان اسمبلی کی بڑی تعداد نے اعلیٰ قیادت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا جبکہ نمایاں اور فعال کسان تنظیموں نے بھی اس بارے غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا ہونے کی صورت میں کسان کو گندم کی فصل کی اچھی قیمت ملنے کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔ ورلڈ بینک کی تجاویز کے بعد میڈیا کے بعض حلقوں میں یہ خبریں بھی شائع ہوئی تھیں کہ محکمہ خوراک پنجاب کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے تاہم چیف سیکرٹری پنجاب نے ان افواہوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری فوڈ کو صوتحال واضح کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ذرائع کے مطابق ’’سمارٹ‘‘ پروگرام کے تحت یہ تجویز کیا گیا ہے کہ محکمہ خوراک پنجاب 2021ء تک صوبے بھر میں 30 تا 40 لاکھ ٹن گندم ذخیرہ کرنے کیلئے سٹیل سائیلوز تعمیر کرے۔ محکمہ خوراک اس وقت بھی کسانوں سے خریدی گئی گندم پر 300 روپے فی من کے لگ بھگ ان سیڈنٹل چار جز کی مد میں سبسڈی برداشت کررہا ہے ۔ عالمی بینک کی تجویز کے مطابق محکمہ براہ راست کسانوں سے بڑی مقدار میں گندم خریدنے کے بجائے کسانوں کو اپنی گندم سرکاری سائیلوز میں بلامعاوضہ ذخیرہ کرنے کی سہولت فراہم کرے گا اور یوں کسان ہولڈنگ استعداد مل جانے کے بعد اوپن مارکیٹ میں گندم کے اچھے نرخ میسر ہونے پر گندم فروخت کرسکیں گے۔ اس حوالے سے کسان تنظیموں کا موقف ہے کہ سٹیل سائیلوز کی تعمیر کا منصوبہ گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے لیکن اس کی رفتار نہاایت سست ہے اور پورے پنجاب میں 40 لاکھ ٹن سے زائد گنجائش کے سائیلوز کی آئندہ چند برسوں میں تعمیر ممکن دکھائی نہیں دیتی اور ویسے بھی چھوٹے کا شتکار کو اپنے اخراجات کیلئے فوری رقم کی ضرورت ہوتی ہے جو وہ محکمہ خوراک کو گندم بیچ کر حاصل کرتا ہے۔ سائیلوز سے فائدہ بیوپاری اور بڑے کسان حاصل کریں گے چھوٹے کسان کا معاشی استحصال جو اس وقت بھی ہورہا ہے وہ تباہ کن صورت اختیار کر جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اراکین اسمبلی نے بھیا س تجویز کو سیاسی طور پر ن لیگ کیلئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں محکمہ خوراک کے ملازمین کی نمائندہ تنظیم ’’فیلڈ سٹاف ویلفیئر ایسوسی ایشن‘‘ نے گزشتہ روز سیکرٹری فوڈ پنجاب کے نام لکھے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ لاکھوں ٹن کے سرپلس گندم سٹاکس کی نکاسی کیلئے اس کی قیمتیں کم کی جائیں اور سمندری راستے سے ایکسپورٹ شروع کی جائے۔ ایسوسی ایشن کے صدر رانا اشرف اور جنرل سیکرٹری غلام چشتی خان نے خط میں لکھا ہے کہ گزشتہ دس برس سے محکمانہ ترقیوں کا عمل رکاہوا ہے ۔ 24 اضلاع میں ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز کی اسامیوں پر سٹوریج افسر کام کررہے ہیں۔ ڈی ایف سی کی پوسٹ ٹیکنیکل ہے لہٰذا ڈیپوٹیشن پر افسروں کی تعیناتی بند کی جائے۔ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی اجلاس منعقدہ کیا جائے جبکہ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر کا پے سکیل 16 سے بڑھا کر 17 کیا جائے۔ اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر کا 15 سے 16، فوڈ انسپکٹر کا 14 جبکہ فوڈ سپر وائزر کا پے سکیل 9 سے بڑھا کر 12 کیا جائے۔ ہر سنٹر پر اربوں روپے مالیت کی گندم موجود ہے لیکن اس کی حفاظت کیلئے چوکیداروں کی تعداد تشویشناک حد تک کم ہے، ہر سنٹر پر 10 چوکیدار مقرر کیے جائیں۔
شہباز شریف نے سائیلوز کی تکمیل تک گندم خریداری کا موجودہ طریقہ کار جاری رکھنے کی ہدایت کر دی




