
غزہ:غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جانب سے بمباری کا سلسلہ پانچویں دن بھی جاری ہے جبکہ جمعے کی صبح ہونے والے دھماکوں نے غزہ شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق وہ غزہ میں بنی زیر زمین سرنگوں کے جال کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں تاہم ایک ترجمان کے مطابق اگرچہ بری افواج نے ایک 40 منٹ کے آپریشن میں حصہ لیا تھا، ان کے فوجی غزہ کے علاقے میں داخل نہیں ہوئے تھے۔
غزہ پر اب تک ہونے والے حملوں میں کم از کم 119 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس میں 31 بچے اور 19 خواتین بھی شامل ہیں جبکہ صحت کے حکام کی جانب سے زخمی ہونے والوں کی تعداد 830 بتائی گئی۔ دوسری جانب اسرائیل میں اب تک آٹھ اموات ہو چکی ہیں جن میں ایک معمر خاتون، سرحد پر تعینات ایک فوجی اور دو بچے بھی شامل ہیں۔ ایک فوٹیج میں شہر میں ہونے والے دھماکوں کی زور دار آواز سنی جا سکتی ہے جبکہ آسمان میں شعلوں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔پیر سے شروع ہونے والی اس لڑائی میں کمی کا کوئی امکان ابھی تک دکھائی نہیں دے رہا جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بینامن نتن یاہو نے کہا کہ اس میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
اقوام متحدہ نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سلامتی کونسل کا اجلاس اتوار کو طلب کیا ہے جبکہ عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے فوری طور پر جنگ بندی پر زور دیا ہے۔ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ پہلے ہی بہت سے معصوم شہری اپنی جان گنوا چکے ہیں اور اس تنازعے کی وجہ سے پورے خطے میں انتہا پسندی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کے ممکنہ حملے کے پیش نظر لوگ گھروں کو چھور رہے ہیں اور کئی خاندان سکولوں کی عمارتوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ کی جانب سے اسرائیل کے جنوب ساحلی شہر اشدود اور اشکلون پر جبکہ تل ابیب کے بین گوریون ائیرپورٹ کے اطراف میں درجنوں راکٹ داغے گئے ہیں۔ اسرائیل کی فضائیہ نے حماس سے منسلک کئی مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد فضائی حملے کیے جبکہ حماس کے انٹیلیجنس ہیڈ کوارٹر کے ایک فوجی کمپانڈ پر حملے کا دعوی بھی کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ میں 600 سے زیادہ بار اپنے اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ غزہ کی جانب سے آنے والے کئی راکٹس کو اسرائیل کے وفاعی نظام آئرن ڈوم نے ناکام بنا دیا۔اسرائیلی فوج کے مطابق لبنان کے جنوبی حصے سے بھی اسرائیل کی طرف تین راکٹ فائر کیے گئے جو بحیرہ روم میں گرے ہیں تاہم اسرائیل کے حریف گروپ حزب اللہ کے ایک قریبی ذارئع نے بتایا ہے کہ لبنان کے اہل تشیع گروپ کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔
امریکی سیکریٹری خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا ہے کہ واشنگٹن کو اسرائیل کی گلیوں میں ہونے والے تشدد پر سخت تشویش ہے جبکہ محکمہ خارجہ نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کا سفر نہ کریں۔امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلح تصادم اور خانہ جنگی کی وجہ سے اسرائیل کے سفر پر نظر ثانی کریں۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پورے اسرائیل میں مظاہروں اور تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یروشلم سمیت غزہ کے اطراف اور جنوبی اور مرکزی اسرائیل میں راکٹس گرتے رہے ہیں۔
دوسری جانب برٹش ائیرویز، ورجن اور لفتھانسا سمیت کئی بین الاقوامی ائیر لائنز نے اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں بھی منسوخ کر دیں ہیں۔
ادھر امریکی کانگریس کے اراکین نے بھی اس تنازعے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ فلسطینی نژاد امریکی کانگریس کی نمائندہ راشدہ طالب، جو فلسطین کے حوالے سے اسرائیلی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتی رہتی ہیں، نے امریکی حکومت کی اسرائیل کی غیر مشروط حمایت پر سوال اٹھایا۔امریکہ کے ایوان نمائندگان میں خطاب کے دوران انھوں نے کہا کہ ہمیں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ ہمارا ملک اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کو تسلیم کرے جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کی زندگی کا خاتمہ ہوا اور لاکھوں مہاجرین کے حقوق سے انکار کیا گیا۔امریکی ریاست مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی رکن کانگریس الہان عمر نے بھی ارکان کانگریس کی جانب سے اسرائیل کی حمایت کرنے پر ایوان میں اپنے ساتھیوں پر تنقید کی۔انھوں نے کہا کانگریس کے بہت سے اراکین انسانیت اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف جرائم کی مذمت کرنے کی بجائے عام شہریوں کے خلاف اسرائیل کے فضائی حملوں کا دفاع کر رہے ہیں۔
دوسری جانب جمعہ کو امریکا کے اعتراض کے بعد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس اب اتوار کو ہوگا جس میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تشدد کی بگڑتی صورتحال پر کھلے عام تبادلہ خیال کیا جائے گا۔سفارتکاروں کا کہنا تھا کہ امریکا جو اسرائیل کا قریبی اتحادی ہے اس نے پہلے ورچوئل اجلاس منگل کو منعقد کرنے کی تجویز دی تھی۔امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے امید ظاہر کی تھی کہ کچھ روز کے انتظار سے سفارتکاری کا کچھ اثر پڑے گا اور یہ دیکھنا ہے کہ کیا ہمیں واقعتا تنازع میں کمی دیکھنے کو ملے گی۔
سفارتکاروں کا کہنا تھا رواں ہفتے 15 رکنی کونسل کا خطے میں جاری بدترین لڑائی پر 2 مرتبہ نجی اجلاس ہوچکا ہے لیکن ابھی تک اس حوالے سے عوامی بیان پر اتفاق نہیں ہوسکا۔
ادھر جمعے کو فلسطین پر اسرائیلی حملوں کے خلاف ملک بھر میں یوم فلسطین منایا گیا ۔ مختلف جماعتوں کی جانب سے اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج کیا گیا



