چین کے ساتھ تجارتی جنگ میں امریکا کی شکست یقینی ہے، اپنے تنازعات کے باعث امریکہ جلد دنیا میں تنہاء رہ جائے گاسابق امریکی سفارت کار

بیجنگ :سابق سینئر امریکی سفارتکار چارلس فریمین نے کہا ہے کہ امریکا چین کے ساتھ ایک ایسی تجارتی جنگ میں مصروف ہے جس میں امریکا کی شکست یقینی ہے۔چینی نشریاتی ادارے کے مطابق ویب سائٹ "مشرقی ایشیائی فورم ” پر تحریر کئے گئے مضمون میں چارلس فریمین نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ ” تجارتی جنگ ” کی وجہ سے امریکی کسانوں نے24ارب امریکی ڈالر مالیت کی چینی مارکیٹ کا بیشتر حصہ کھو دیا ہے ۔ علاوہ ازیں اس صورت حال کی وجہ سے امریکا جی ڈی پی میں 320 بلین ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے اور امریکہ میں روز گارکے مواقع میں تقریبا 2لاکھ 45 ہزار کی کمی واقع ہوئی ہے۔اوسطا امریکی خاندان ہر سال اشیا صرف کے لئے 1277 ڈالر زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ بلکہ اس کے برعکس چین نے تجارتی رکاوٹیں کم کرکے امریکا کے سوا دوسرے ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت کے ذریعے اپنی پوزیشن کو بہتر بنایا ہے۔انہوں نے اپنے مضمون میں کہا کہ اگر امریکا تنازعات پر قائم رہتا ہے تو وہ اس کے نتیجہ میں بالآخر دنیا میں تنہا رہ جائیگا۔چین کی شراکت کے بغیر بہت سارے مسائل حل نہیں ہوسکتے ہیں ۔ امریکا کو چین کے ساتھ تعاون کرنا چاہیئے ۔ امریکا کو چین کے "دی بیلٹ اینڈ روڈ” انیشی ایٹو کی مخالفت سے باز رہنا ہو گا ،بلکہ امریکا کو اس میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیئے ۔ سفارتی تعلقات اور تبادلوں کو معمول پر لایا جائے تاکہ چین کی تفہیم کو مزید بہتر بنایا جائے ۔


