
سلام آباد …آلپاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمدامجد نے کہا ہے کہ جسٹس (ر)جاوید اقبال نے سابق صدر اور اے پی ایم ایل کے چیئرمین سید پرویز مشرف پر چاہزارافراد امریکہ کے حوالے کرنے کا الزام اپنے آقاﺅں کو خوش کرنے کے لئے لگایاہے۔جسٹس(ر)جاوید اقبال امریکہ کے حوالے کئے گئے چار ہزار افراد کی فہرست سامنے لائیں یا سید پرویز مشرف سے معافی مانگیں۔جسٹس (ر) جاوید اقبال کی ذمہ داری قوم کے لوٹے گئے کھربوں روپے واپس لانے کی ہے،دیکھتے ہیں وہ ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوٹنے والوں کو تحفظ دیتے ہیں یا قوم کا پیسہ واپس لاتے ہیں۔ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے مک مکا کرتے ہوئے جسٹس (ر)جاوید اقبال کو نیب کا چیئرمین تعینات کیاہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب کے نئے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی طرف سے سید پرویز مشرف پر لگائے گئے الزام کے رد عمل میں کیا۔انہوں نے کہا کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بنتے ہوئے اے پی ایم ایل کے سربراہ سید پرویز مشرف کے خلاف بیان دے رہے ہیں۔جسٹس (ر) جاوید اقبال اپنے کام پر توجہ دیں جو ان کے ذمے لگایا گیا ہے۔ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے اپنی اپنی کرپشن کے تحفظ کے لئے جسٹس (ر) جاوید اقبال کو نیب کا چیئرمین تعینات کیا ہے اور جسٹس (ر) جاوید اقبال حق وفاداری ادا کرتے ہوئے سید پرویز مشرف پر الزامات لگا کر اپنے آقاﺅں کو خوش کررہے ہیں،وہ شروع سے دل میں سید پرویز مشرف کے خلاف بغض رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے جن چار ہزار افراد کو امریکہ کے حوالے کئے جانے کا الزام لگایا ہے ان کی فہرست سامنے لائیں تا کہ قوم حقائق سے آگاہ ہو۔ اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو سید پرویز مشرف سے معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کی ایمانداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے گا کہ وہ نیب کے سربراہ کے طور پر قوم کا لوٹا ہوا کتنا پیسہ واپس لاتے ہیں۔




