سی پیک کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دی جائیں گی،اسد عمر

اسلام آباد:پاک چین صنعتی تعاون پاکستان کو خطے میں پیداواری مرکز بنا دے گا،صنعتی زونز کے قیام سے مقامی صنعت کاروں کیلئے سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع پیدا ہونگے،چینی صنعتوں کی پاکستان میں منتقلی سے بے روزگاری کا خاتمہ، مختلف شعبوں میں معلومات کا تبادلہ اور مہارت میں اضافہ ہوگا،چین نے پاکستان میں سی پیک کے تحت اب نئی سرمایہ کاری کی ہے اور گزشتہ سال 2020 میں یہ سرمایہ کاری 11بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی جو 2015 کے بعد چین کی دوسری بڑی سرمایہ کاری ہے ، سی پیک کا اب دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا ہے اس مرحلے میں صنعتی تعاون سے اور زراعت کے فروغ کے منصوبوں کی وجہ سے پہلے مرحلہ سے بھی زیادہ وسیع تر اور نمایاں اثرات مرتب ہوں گے ، زندگی کا ہر شعبہ کسی نہ کسی طرح سی پیک سے منسلک ہے۔ اس لئے اگر کہا جائے کہ سی پیک سب کے لئے تو اس منصوبے کے وژن کی بہتر عکاسی ہو سکے گی ۔ یہ ایک خالص ترقیاتی منصوبہ ہے جو نہ صرف چین اور پاکستان تک محدود ہے بلکہ پورے خطے کیلئے ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہے،اس لئے پاکستان اور چین دونوں ہی سی پیک کے تمام منصوبوں کو وقت پر مکمل کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا ہے کہ سی پیک کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں علامہ اقبال خصوصی اقتصادی زون اور رشکئی خصوصی اقتصادی زون پرکام خوش اسلوبی سے جاری ہے اور بڑی تعداد میں سرمایہ کاروں نے ان اقتصادی زونز میں سرمایہ لگانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔سی پیک اتھارٹی کے چئیرمین عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں صنعتی اور زرعی ترقی اور بہتر سڑک رابطوں کی بدولت فائدہ اٹھانا شروع کرے گا۔ سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان میں غربت کے خاتمے اور جی ڈی پی کی نمو میں اہم کردار ادا کرے گا۔