بلوچستان میں قتل ہونے والے کشمیری نوجوان عمران عارف ماگرے کے قاتل بے نقاب نہ ہو سکے

ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود آذادکشمیر کے نوجوان عمران عارف ماگرے ، قتل کیس میں کوئی اہم پیش کے تک نہ ہو سکی ،تھانہ ضلع۔دکی ، کے متعلقہ عملہ نے چپ کا روزہ رکھ لیا ورثا کا فون اٹھانے سے بھی قاصر ، عمران کے قتل کی فریاد لے کر آخر کس کے پاس جائیں ، ورثا انصاف کے لیے ترس گئے۔ وزیر اعلی بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری ، آئی۔جی پولیس بلوچستان اور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ سے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ ۔, تفصیلات کیمطابق عباسپور آذاد کشمیر سے تعلق رکھنے والا 22 سالا نوجوان عمران عارف ماگرے جو بلوچستان کے ضلع۔دکی، میں عرصہ دو سال سے اپنا بیکری بزنس کر رہے تھے ،جنہیں 24 اکتوبر 2016 کی رات کو نامعلوم افراد نے اس وقت گھر میں گھس کر فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا جب وہ گھر کے صحن میں سوئے ہوئے تھے، تاہم عمران عارف ماگرے قتل کیس میں عرصہ ایک سال گزر جانے کے باوجود کوئی اہم پیش رفت تک نہ ہو سکی ،، مقتول عمران عارف کے کے ورثا جو کہ آذاد کشمیر میں مقیم ہیں اپنے جواں سالہ بیٹے کی انتہائی بے دردی سے قتل پر سخت افسردہ ، غم سے نڈھال اور اپنے بیٹے کے لیے انصاف کی بھیگ مانگنے پر مجبور ہیں ،وہ اپنے بے گناہ بیٹے کے قاتلوں کو جلد از جلد تختہ دار پر لٹکتا دیکھنا چاہتے ہیں ۔تاہم عمران کے قتل کی فریاد لے کر کس کے پاس جائیں، تھانہ دکی کے متعلقہ عملہ نے عرصہ 6 ماہ گزرنے کے باوجود اس اہم قتل کیس میں چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے اور ورثا کو انصاف دلانے کے بجائے فون اٹھانے سے بھی قاصر ہے ۔،مقتول عمران عارف ماگرے کے بھائی کامران عارف ماگرے نے وزیر اعلی بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری ، آئی جی پولیس بلوچستان ،اور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کیس کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے ہمیں جلد از جلد انصاف فراہم کریں۔