سرینگر ،مظفرآباد تجارتی سامان سے ہیروئین برامدگی، اصل سمگلر ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے

ہٹیاں بالاسرینگر مظفرآباد تجارتی سامان سے ہیروئن برآمدگی کیس 25روز گذرنے کے باوجود اصل سمگلر اور اسکے ساتھی گرفتار نہ ہو سکے جبکہ تھانہ چناری کی جوڈیشل لاک اپ میں پابند سلاسل پانچ بے گناہوں اور ان کے خاندانوں کی تشویش میں دن بدن اضافہ ورثاء کی جانب سے سرینگر مظفرآباد تجارت کو احتجاجا بند کر نے کے الٹی میٹم میں دو دن باقی بے گناہوں کی عدم رہائی اور اصل سمگلروں کی عدم گرفتاری کی صورت میں بڑے تصادم کا خطرہ۔تفصیلات کے مطابق انیس ستمبر کے روز ٹریڈ سینٹر چکوٹھی میں دوران چیکنگ مقبوضہ کشمیر جا نے والے کارپٹ کے ایک ٹرک سے پچاس کلو سے زائد ہیروئن برآمد کر نے کے بعد موقعہ پر موجود پانچ بے گناہ دیہاڑی داری کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا گیا تھا پچیس روز گذرنے کے باوجود اصل سمگلر کی گرفتاری نہ ہو سکی جبکہ ورثاء کی جانب سے حکومت آزاد کشمیر کو دی جا نے والے ڈیڈ لائن میں دو دن باقی رہنے کے باعث آئندہ ہفتے سے ہو نے والی تجارت کے دوران گرفتار افراد کے ورثاء کی جانب سے احتجاجا ٹرک روکنے کے اعلان کے باعث بڑے تصادم کا خطرہ ہے منشیات برآمدگی کیس کے پچیس روز گذرنے کے باوجود انتظامیہ اصل سمگلر سجاد زرگر عرف ماجد زرگر کو گرفتار کر نے میں کا میاب نہیں ہو سکی ہے ورثاء کا کہنا ہے کہ اگر قانون ملک کے وزیراعظم کے لیے حرکت میں آسکتا ہے تو پھر ہمیں بتایا جائے منشیات سمگلنگ میں ملوث سجادزرگر اور اسکے ساتھی پچیس روز گذرنے کے باوجود گرفتار کیوں نہیں ہو سکے اخر کیا وجہ ہے کہ وہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں ہو نے کے باوجود کھلے عام گھوم رہا ہے اور قانون اس کے خلاف حرکت میں نہیں آسکا جس کی وجہ سے پانچ بے گناہ پچیس روز سے نا کردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں