حکومت کوٹوبیکوانڈسٹری کے مفادات کے بجائے نوجوان نسل کامستقبل عزیز ہوناچاہیے

اسلام آباد ۔ تمبا کوکے مضر صحت اثرات بارے پارلیمنٹرین تقریب میں اظہار خیال کررہے ہیں

اسلام آباد(ایس خان سے)ممبرقومی اسمبلی ووفاقی پارلیمانی سیکریٹری برائے ادارہ صحت ڈاکٹرنوشین حامد نے کہاکہ ہم عوام کے منتخب نمائندے ہیں،اورہمیشہ کی طرح ہرپلیٹ فارم پرعوام کے مفادات کی آوازاٹھاتے رہیں گے،تمباکونوشی کسی طرح بھی انسانی صحت کیلئے موثرنہیں،تمباکونوشی نشہ کی جانب پہلاقدم ہے،نوجوان نسل کامستقبل بچانے کے لئے ہم سب کومل کرکام کرناہوگااورتمباکونوشی کے خاتمہ کیلئے عملی اقدامات اٹھانے ہونگے۔پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ)فلاحی اداروںکے زیر انتظام ” عوام دیکھیں کہ تمباکو پر کیوں ٹیکس نہیں لگایا گیا”کے موضوع پرمنعقدہ سیشن میں مدعوکیے جانے والے اراکین پارلیمان ڈاکٹرنوشین حامد،عظمی ریاض،،عامرنوید جیوا،، پاٹنرز(سی ٹی ایف کے) کے کنٹری ہیڈ ملک عمران،سپارک،کرومیٹک، فلاحی،سیاسی،قانونی،طبی،صحافی ماہرین وپناہ کے ممبران سکارڈن لیڈر غلام عباس،رخسانہ نازی ودیگرکی بڑی تعداد نے شرکت کی،میزبانی کے فرائض پناہ پیٹرن میجرجنرل (ر) محمد اشرف خان اورپاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری نے سرانجام دیے،سیشن کاباضابطہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیاگیا۔پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے جنرل سیکرٹری ثنا اللہ گھمن نے کہاکہ پناہ ایک ایساادارہ ہے جوگزشتہ 37سال سے عوام کودل کی بیماریوں سے متعلق آگہی دے رہاہے،دل سمیت دیگرامراض کی بڑی وجہ تمباکونوشی ہے، عالمی تحقیقات کے مطابق عالمی سطح پر تمباکو ہر سال 80 لاکھ انسانوں کی جان نگل لیتاہے،جب کہ پاکستان میں ہرسال ڈیڈھ لاکھ سے زائد افراد تمباکونوشی کے ہاتھوں قیمتی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں، تمباکو کی صنعت ہر سال دنیا بھر میں ساڑھے چھ کھرب سگریٹ فروخت کرتی ہے،جوضروریات زندگی میں شامل نہیں، حکومت نوجوان نسل کوصحت مندبنانے کے لئے اقدامات اٹھائے،ہماری جدوجہد جاری رہے گی،سی ٹی ایف کے)کے کنٹری ہیڈ ملک عمران نے کہاکہ ڈبلیو ایچ اوسمیت دنیابھر سے مختلف تحقیقات نے ثابت کیا کہ اگرکسی چیز کی کھپت کوکم کرناہوتواس پرٹیکس نافذکردیاجائے،لیکن ٹوبیکوانڈسٹری ملک وقوم کی نظروں میں دھول جھونک رہی ہے،ہم اپنی ذات کی نہیں بلکہ مفادعامہ کی بات کرتے ہیں،ہم پرامید ہیں کہ ایک دن آئے گاجب قانون نافذکرن والے ادارے ہمارے موقف کی تقلید کرینگے۔ ممبرقومی اسمبلی عظمی ریاض نے کہاکہ ہم پاکستان سے ہیں،اس کے مفادات ہمیں اپنی جان سے زیادہ عزیز ہیں،صحت کونقصان پہنچانے والے عوامل کی روک تھام ہونی چاہیے،تاکہ ہماری قوم بیماریوں سے چھٹکارہ پاسکے۔ممبران قومی اسمبلی منورہ بلوچ،عامرنوید جیواودیگرنے کہاکہ پاکستان کی بقا ہماری ترجیح ہے،صحت،تعلیم اورامن وامان دیناحکومت کافرض ہے،ہماری کوشش رہے گی کہ ہم معززپارلیمان میں عوام کی آواز بنیں اورایسے عوامل جو ہماری قوم اوربالخصوص نوجوان نسل کامستقبل دا پرلگارہے ہیں،ان کی نشاندہی کی جائے،تاکہ ایک صحت مندقوم تشکیل پا جاسکے۔پناہ پیٹرن میجرجنرل (ر) محمد اشرف خان نے کہاکہ سادہ غذا،چہل قدمی کوروزمرہ زندگی میں شامل کریں،مرغن غذاں،تمباکونوشی،میٹھے مشروبات،اضافی نمک سے گریزکریں،تاکہ صحت مندمعاشرہ تشکیل پاسکے۔تقریب کے اختتام پرانھوں نے تمام مہمانان گرامی کاشکریہ اداکیا۔