
کراچی:
پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ کراچی میں انتقال کرگئے، ان کا شمار پارٹی کے سرکردہ رہنماں میں ہوتا تھا۔ان پر چند روز قبل برین ہیمرج کا حملہ ہوا تھا اور وہ اس وقت سے کومے میں تھے۔وزیراعلیٰ سندھ نے علاج کی غرض سے ان کی کراچی بلوایا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے اور اکیس جون کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
عثمان خان کاکڑ 1961 میں قلعہ سیف اللہ کے علاقے مسلم باغ میں پیدا ہوئے، انہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم اپنے علاقے اور کوئٹہ میں حاصل کی جب کہ 1987 میں لا کالج کوئٹہ سے ایل ایل بی کیا، زمانہ طالب علمی سے ہی پشتون اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے فعال ممبر رہے۔
عثمان کاکڑ نے وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پشتونخواہ میپ کے پلیٹ فارم سے باقاعدہ سیاست کا آغاز کیا، انہوں نے اپنی بردباری اور ثابت قدمی سے پارٹی میں اہم مقام حاصل کیا اور اسی بنا پر وہ پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کے با اعتماد قریبی ساتھیوں میں شامل رہے۔
پارٹی کے علاوہ وہ سیاسی اور قوم پرست حلقوں میں صاف گو، زیرک اور سنجیدہ سیاستدان کے طور پر جانے جاتے تھے، وہ مارچ 2015 سے مارچ 2021 تک سینیٹ کے رکن بھی رہے، اس دوران وہ نہ صرف صوبے بلکہ ملک کے پسے ہوئے عوام کی بھرپور آواز بنے۔ وہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے چئیرمین بھی رہے۔

