مایوسی گناہ ہے، 72 سالہ شخص نے 305 دن کی طویل جنگ کے بعد بالآخر کرونا کو شکست دے دی


لندن:ہمت نہ ہاریں، تو خدا بہتری کی صورت نکال ہی دیتا ہے۔ اس کی ایک جیتی جاگتی مثال برطانیہ سے سامنے آ ئی ہے جہاں طویل ترین عرصے تک کورونا وائرس میں مبتلا رہنے والے ایک شخص نے ہمت ہار دی تھی اور علاج ترک کرکے موت کو گلے لگانے کا ارادہ کر لیا تھا مگر بیوی کے کہنے پر اس نے علاج جاری رکھا اور اب بالآخر وہ صحت مند ہو کر گھر چلا گیا ہے۔
میل آن لائن کے مطابق برطانوی شہر برسٹل کے رہائشی اس شخص کا نام ڈیو سمتھ ہے جو دنیا میں کورونا وائرس میں طویل ترین عرصے تک مبتلا رہنے والا شخص ہے۔یہ 305دن تک اس موذی وائرس کا شکار رہا۔رپورٹ کے مطابق اتنے عرصے تک اس کے تمام ٹیسٹ مثبت آتے رہے اور گزشتہ دنوں بالآخر ٹیسٹ منفی آنے پر اسے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔
ٹیسٹ منفی آنے کے بعد 72سالہ ریٹائرڈ ڈرائیونگ انسٹرکٹر ڈیو سمتھ نے کہا کہ درمیان میں ایک وقت آیا تھا جب میں مرنے کے لیے تیار ہو گیا تھا۔ میں اس مرض کے خلاف لڑائی سے ہاتھ اٹھانا چاہتا تھا ۔
ان دنوں میری حالت اتنی تشویشناک تھی کہ میں پانچ پانچ گھنٹے تک مسلسل کھانستا رہتا تھا۔ میں نے اپنی بیوی لنڈا سے کہا کہ اب میں دنیا سے رخصت ہونے کے لیے تیار ہوں مگر اس نے مجھے حوصلہ دیا ، جس پر میں نے علاج جاری رکھا اور اب بالآخر میں یہ جنگ چکا ہوں۔