ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ جاری رکھنے سے انکار کر دیا, ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی بطور ‘تشدد پسند حکومت’ مذمت کرتے ہوئے اس کے ساتھ بین الاقوامی جوہری معاہدہ جاری رکھنے سے انکار کر دیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اس معاہدے کو کانگریس میں بھیجیں گے اور اس میں تبدیلی لانے کے لیے اتحادیوں سے مشاورت کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر اس دوران کانگریس اور ہمارے اتحادیوں کے ساتھ ہم کسی حل تک نہ پہنچے تو یہ معاہدہ ختم ہو جائے گا۔‘

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں بطور صدر کسی بھی وقت ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے میں ہماری نمائندگی ختم کر سکتا ہوں۔‘

انھوں نے ایران پر شدت پسندوں کی سرپرستی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے ’جوہری ہتھیاروں کی جانب تمام راستے‘ بند کر دیں گے۔

ادھر امریکی صدر کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایران صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ’امریکہ اس طرح سے تنہا کبھی نہیں تھا، اور وہ جوہری معاہدے کو تبدیل نہیں کر سکتا ہے۔‘

حسن روحانی نے مزید کہا کہ ’جب تک ہمارے حقوق کی ضمانت ہے، جب تک ہمارے مفادات محفوظ ہیں، جب تک ہمیں جوہری معاہدے سے فائدہ ہے ہم اس کا احترام اور اس پر عمل کرتے رہیں گے۔‘

خیال رہے کہ کانگریس کو صدر کی جانب سے ہر 90 روز بعد اس بات کی تصدیق کی ضرورت ہوتی ہے کہ ایران اس معاہدے پر قائم ہے۔ صدر ٹرمپ پہلے ہی دو بار یہ تصدیق کر چکے ہیں لیکن تیسری مرتبہ انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اب کانگریس کے بعد یہ فیصلہ کرنے کے لیے 60 روز ہیں کہ آیا ایران پر دوبارہ سے پابندیاں لگا کر اس معاہدے کو ختم کر دینا چاہیے۔

دوسری جانب بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران 2015 میں ہونے والے معاہدے کے بعد سے جوہری پروگرام کو بند کرنے پر مکمل طور پر عمل پیرا ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ انتہائی نرم ہے اور ’ایران کئی مرتبہ اس کی خلاف ورزی کر چکا ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ایران موت، تباہی اور افراتفری پھیلا رہا ہے۔‘

ان کے مطابق ان کی نئی حکمت عملی اس سب کو ٹھیک کر دے گی۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ اس معاہدے کو کسی بھی وقت چھوڑنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ان کی تقریری کے چند ہی منٹوں بعد یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگیرینی نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ’یہ معاہدہ انتہائی طاقتور ہے اور اس کی کسی قسم کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے۔‘

فیڈریکا موگیرینی نے کہا کہ ’اس معاہدے کو ختم کرنے کی طاقت دنیا کے کسی صدر کے پاس نہیں ہے۔ یہ معاہدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے بنایا گیا ہے۔‘

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران، امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین اور روس کے ساتھ ساتھ جرمنی کے درمیان ہونے والے معاہدے کو نہ چھورنے کے لیے اندرونی اور بیرونی دباؤ تھا۔

انھوں نے جوہری معاہدے سے ہٹ کر ایران کی دیگر سرگرمیوں خاص طور پر پاسدارن انقلاب پر بھی بات کی۔ خیال رہے کہ صدر ٹرمپ پاسدارن انقلاب کو ’ایران کے قائد کی بدعنوان لوگوں پر مشتمل دہشت پھیلانے والی فورس‘ قرار دے چکے ہیں۔

امریکی صدر کی جانب سے ایرانی معاہدے پر کی جانے والی سب سے اہم تنقید یہ تھی کہ اس معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا احاطہ نہیں کیا گیا۔