ہم ایک قوم نہیں بن سکے تو ایک نصاب کہاں سے لا ئیں گے سفارشی افسران کو مشکل کام دیدیا گیا ہے سرکاری افسر

اسلام آباد(قاضی بلال خصوصی نمائندہ)وفاقی حکومت کی جانب سے یکساں نظام تعلیم اور ایک نصاب پر تاحال کام مکمل نہ ہو سکا دوسری جانب لاکھوں روپے تنخواہوں پر ماہرین بھی ابھی تک کچھ نہیں کرسکے ۔ تعلیمی سال مکمل ہونے کے باوجود ابھی تک نصاب کیلئے طلبہ و طالبات پریشان ہیں ۔ ذرائع کے مطابق اس وقت یکساں نظام تعلیم کیلئے ریٹائرڈ افسران کی فوج ظفرموج تعینات کی گئی ہے مگر بااثر ایلیٹ کلاس ان سے کسی قسم کا کوئی تعاون نہیں کررہی ہے اور ان ماہرین کی آراء کا کوئی جواب نہیں دیا جارہا ہے ۔ ایک افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا ہے کہ روایتی حربے استعمال کئے جارہے ہیں یہ کہنا غلط نہ ہوگا جس کی طرح ہم ایک قوم نہیں بن سکے ہیں اسی طرح ایک نصاب اس ملک میں ایک خواب رہے گا ۔ صوبے ایک دوسرے کو برادشت کرنے کیلئے تیار نہیں ۔ ہر صوبے کے اپنے معاشرتی مسائل ہیں اس کے علاوہ ستر سات سے ایک معاشرتی تقسیم بھی بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔ واضح رہے کہ تعلیمی سال مکمل ہو چکا ہے اور ملک میں تاحال ایک نصاب کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے ۔کتابوں کے بڑے سٹور بھی پریشان ہیں ان کا موقف ہے کروڑوں روپے کی کتب ان کے پاس پڑی ہیں مگر حکومت کی واضح پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے کوئی انکو خریدنے کیلئے کوئی تیار نہیں ہے۔دوسری جانب طلبہ اور والدین پریشان ہیں کیونکہ انہیں کوئی واضح صورتحال نظر نہیں آ رہی ہے۔




