پاکستان میں کورونا کی چوتھی لہر خطرناک ہوگئی 86 اموات، 4,537 نئے کیسز رپورٹ


کراچی میں کورونا کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ شرح 33 فیصد تک پہنچ گئی ۔8 اگست تک سندھ بھر میںلاک ڈائون

اسلام آباد:ملک میں کورونا کی چوتھی لہر کے وار تھم نہ سکے، 24 گھنٹے کے دوران کورونا 86 زندگیاں نگل گیا جبکہ مزید 4,537 نئے کیسز سامنے آئے ،کوروناسے اب تک 23,295 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 1,024,861 افراد کورونا وائرس میں مبتلا ہوئے۔
نیشنل کمانڈاینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) نے کورونا وائرس سیمتاثرہ افراد کے تازہ اعدادو شمار جاری کردیئے،پاکستان میں گزشہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید4,537 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعدپاکستان میں کورونا کیمریضوں کی تعداد 10 لاکھ 24 ہزار 861 ہوگئی۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق کوروناوائرس سے پنجاب سب سے زیادہ متاثر ہوا،جہاں کورونا کے مریضو ں کی تعداد 3 لاکھ 55 ہزار 483 ہوگئی جبکہ سندھ میں 3 لاکھ 77 ہزار 231 افراد کورونا کا شکار ہوئے۔
اس کیعلاوہ خیبرپختونخوامیں1لاکھ 43 ہزار 213، اسلام آباد میں 86 ہزار 945، بلوچستان میں 30 ہزار 162، گلگت بلتستان میں 8008 اور آزاد کشمیر میں کوروناوائرس کے 23 ہزار 819 کیسز سامنے آچکے ہیں۔
نیشنل کمانڈ آینڈ آپریشن سنٹر کے مطابق ملک بھرمیں گزشتہ ایک روز کے دوران کورونا وائرس سے مزید 86 افراد زندگی کی بازی ہار گئے ،جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 23 ہزار 295 تک پہنچ گئی۔
گزشتہ ایک روز کے دوران کورونا سے سب سے زیادہ سندھ میں 44 اموات ہوئیں ،اس کے علاوہ پنجاب میں 24، خیبرپختونخوامیں 9، گلگت بلتستان میں 4، آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں 2،2 جبکہ بلوچستان میں ایک مریض کا انتقال ہوا۔
کورونا سیاب تک پنجاب میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ ہوئیں،جہاں 11,019 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔اس کے علاوہ سندھ میں 5947، خیبرپختونخوا میں 4444، اسلام آباد میں799، بلوچستان میں327 اور گلگت بلتستان میں 137 اور آزاد کشمیر میں کورونا کے باعث 622 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں ۔
ملک بھر کے مختلف اسپتالوں میں کورونا سیمتاثرہ 62 ہزار 723 مریض زیرعلاج ہیں،جن میں سے 3,117 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے،ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح 7.79 فیصدریکارڈ کی گئی۔
کورونا وائرس سے ایک روز میں کورونا سے 1,489 افراد صحت یاب ہوئے جس کے بعد پاکستان میں اب تک 9 لاکھ 38 ہزار 843 مریض کورونا وائرس کو شکست دے چکے ہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق اس وقت ملک کے مختلف اسپتالوں میں 2 ہزار 944 مریض زیر علاج ہیں جبکہ 278 مریض وینٹی لیٹر پر موجود ہیں۔
ادھر کراچی میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے باعث کراچی سمیت سندھ بھر میں 8اگست تک مکمل لاک ڈان کا اعلان کر دیا ہے ، انٹر سٹی ٹرانسپورٹ اور کاروبار مکمل بند رہے گا، پیر سے تمام سرکاری اور نجی دفاتر بند ہوں گے۔
وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کورونا ٹاسک فورس کے اجلاس میں طبی ماہرین کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنما اور تاجر برادری کے نمائندں نے بھی شرکت کی۔ا شرکا کو کراچی سمیت صوبے بھر میں کورونا کی تشویناکک صورت حال سے آگا کیاگیا۔سیکریٹری صحت نے بتایا کہ صوبے میں کورونا کیسز کی مجموعی شرح 13 فیصد سے زائد ہے، کراچی میں کورونا کی شرح 23 فیصد جبکہ حیدر آباد میں 14 فیصد ہے، کراچی کا ضلع شرقی33فیصد شرح کے ساتھ سب سے آگے ہے،صوبے میں انڈین ویرینٹ تیزی سے پھیل رہا ہے، اسپتالوں پر مریضوں کا شدید دبا ہے۔
وزیر اعلی سندھ مرادی علی شاہ نے اجلاس کے شرکاکے ہمراہ طبی ماہرین کی تجاویز پر طویل مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ 8 اگست تک کراچی میں مکمل لاک ڈان ہوگا، جس کے تحت تمام سرکاری، نجی دفاتر، انٹرسٹی ٹرانسپورٹ بند رے گی جبکہ کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بھی بند رہیں گے۔ شہریوں کے بلاوجہ گھروں سے نکلنے پر پابندی ہوگی، لاک ڈان کے دوران گھر سے باہر نکلنے والوں کا ویکسی نیشن کارڈ چیک کیا جائیگا،31 اگست سے ویکسی نیشن نہ کرانے والے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں ادا نہیں کی جائیں گے۔ لاک ڈاون کے دوران ایکسپورٹ صنعت کھلی رہے گی، میڈیکل اسٹورز، بیکریز اور اشیا ضروریہ کی دکانیں کھلی رہیں گی۔اجلاس میں شریک تمام طبی ماہرین، اپوزیشن رہنماں اور تاجر رہنماں نے بھی وزیر اعلی سندھ کے فیصلوں کی تائید کی۔
این سی او سی نے بھی کورونا کیسز بڑھنے پر سندھ حکومت کی مدد کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیرمنصوبہ بندی اسد عمر کی سربراہی میںہونے والے اجلاس میں کراچی کی بگڑتی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، شرکا نے کراچی میں کورونا کے پھیلا پر تشویش کا اظہار کیا ۔این سی او سی حکام کا کہنا تھا کہ سندھ کے اسپتالوں میں انتہائی نگہداشت وارڈز، آکسیجن اور وینٹی لیٹرز بیڈ بڑھائے جائیں گے ، صوبے میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کیلیے سکیورٹی اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔