قائمہ کمیٹی بین الصوبائی رابطہ میں ایمپائر اور اس کی انگلی کا ذکر



جواری کرکٹر کے خلاف ہوں رمیز راجہ ،ایمپائر کے حوالے سے کیا خیال ہے سینٹر مشتاق
ایمپائر کا سوال خطرناک ہے رضاربانی،نہیں وہ ایمپائر کی انگلی کا ذکر تھا سینٹر مشتاق
ورلڈ کپ میں بھاگتے ہوئے آپ کا کیچ آج بھی یاد ہے ،عرفان صدیقی،عمران کا کیچ آپ ڈراپ نہیں کرستے رمیز راجہ
عمران نے تو اس کیچ کو کیش بھی کرایا آپ صرف یہاں تک آسکے ، عرفان صدیقی ،انشاء اللہ آگے بھی جائوں گا رمیز راجہ

اسلام آباد (محمدرضوان ملک ) ایوان بالا کی مجلس قائمہ برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں فریقین کے درمیان ذومعنی جملوں کے باعث اجلاس کشت زعفران زار بنا رہا۔ایک موقع پر سینٹر مشتاق احمد اور رانا مقبول حسین نے کہا کہ ہم بچپن میں آپ کو کھیلتے دیکھتے تھے پتہ نہیں آپ ہم سے بڑے ہیں یا چھوٹے جس پر رمیز راجہ نے کہا کہ آج آپ کے درمیان خود کو بوڑھا محسوس کر رہا ہوںویسے میں نے 1976 ء میں میٹرک کیا تھا جس پر سینٹر مشتاق احمد نے کہا کہ میں نے 89 میں میٹرک کیا تھا آپ بڑھے ہیں جس پر قہقہ گونج اٹھا۔ایک موقع پر جب رمیز راجہ نے کہا کہ قومی وقار دائو پر لگانے والے کرکٹر ز کو معاف کرنے کے خلا ف ہوں جس پر سینٹر مشتاق احمد نے کہا کہ اس حوالے امپائر بارے آپ کا کیا خیال ہے جس پر چئیرمین رضا ربانی نے ازراہ مذاق کہا کہ ایمپائر بارے سوال نہ پوچھے یہ خطرناک سوال ہے جس پر سینٹر مشتاق احمد نے کہا نہیں جناب وہ معاملہ ایمپائر کی انگلی بارے تھا جس پر قہقہ گونج اٹھا۔ سینٹر مشتاق احمد نے ایک موقع پر کہا کہ اگر آپ پاکستان کرکٹ ٹیم میں معاشی مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں تو کسی طرح چائنہ کو بھی کرکٹ میں لے آئیں وہ بھارت سے بڑی مارکیٹ ہے اس پر وفاقی وزیر فہمیدہ مرزاء نے کہا اگر ہو سکی تو سعودیہ کو بھی۔ عرفان صدیقی نے کہا ہم بچپن سے آپ کو کھیلتے دیکھتے آ رہے ہیں خاص طور پر ورلڈ کپ میں آپ کا بھاگتے ہوئے پکڑا گیا کیچ آج بھی یاد ہے جس پر رمیز راجہ نے کہا کہ عمران خان کا کیچ آپ مس نہیں کر سکتے ، جس پر عرفا ن صدیقی نے کاہ عمران خان نے تو اس کیچ کو کیشن بھی خوب کرایا آپ صرف اسی حد تک آ سکے ہیںجس پر رمیز راجہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا انشااللہ آگے بھی جائیں گے۔ ایک موقع پر رضا ربانی نے کہا کہ اب اگر نیوزی لینڈ آنا بھی چاہے تو آپ روٹھ جائیں گورے کو آنکھیں دکھائی تو وہ بیک کرتا ہے جس پر عرفان صدیقی نے کہا جناب چئیرمین یہ بات ذہن میں رکھیں روٹھنے کے لئے بھی جرائت چاہیے ہوتی ہے۔ ایک موقع رمیز راجہ نے کاہ چئیرمین بننے کے بعد میری تو نیندیں اڑ گئی ہیں، یہاں پیسہ زیرو اور گالیاں بہت ہیں۔

بشکریہ :نوائے وقت