وفاقی حکومت نے شہبازشریف اور قائم علی شاہ کے نام ای سی ایل میں ڈال دئیے


سپیکر قومی اسمبلی نے قانون سازی میں تعاون کے لئے میاں شہباز شریف کو خط بھی لکھ دیا

اسلام آباد:شہباز شریف اور قائم علی شاہ پھر مشکل میں آگئے، وفاقی حکومت نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور سابق وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل )میں ڈال دئیے،کرپشن،منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثے کے کیسز کے باعث دونوں کے نام ای سی ایل میں ڈالے گئے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور سابق وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سمری کی منظوری سرکولیشن کے ذریعے دی۔
قائم علی شاہ کیخلاف سندھ روشن پروگرام میں کرپشن کا کیسزنیب میں ہے جبکہ شہباز شریف پر آمدن سے زائد اثاثے اور منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں، سپریم کورٹ کے حکم پر دونوں کے نام ای سی ایل میں ڈالے گئے۔
واضح رہے کہ کوفاقی کابینہ نے چند روز پہلے سمری سرکولیشن کے ذریعے منظوری دی تھی، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزارت داخلہ نے شہباز شریف اور قائم علی شاہ کے نام ای سی ایل میں ڈال دئیے۔
دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹویٹ میں مسلم لیگ (ن)کی ترجمان مریم اورنگزیب نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنا عمران صاحب کی ترجیح ہے، عمران خان کی ترجیح مہنگائی اور معیشت ٹھیک کرنا نہیں۔مریم اورنگزیب نے ٹویٹ میں مزید لکھاکہ شہبازشریف کا نام ایک نہیں، 2نہیں، تین چار دفعہ ای سی ایل میں ڈالیں، عمران خان آٹا، چینی، بجلی، گیس اور دوائی مافیا کو آرڈیننس لاکر این آر او دیں۔
دوسری طرف سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو خط لکھا ،جس میں الیکشن ترمیمی بل 2021 سمیت مختلف بلز پر دوبارہ مشاورتی عمل شروع کرنے کلئے مدد مانگ لی۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنے خط میں کہا کہ اپوزیشن اور حکومت کو وسیع تر قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مشترکہ مفادات کی تمام اہم اصلاحات پر پارٹی سیاست سے بالاتر ہو کر جامع فیصلہ سازی کیلئے آگے بڑھنا چاہیئے، مختلف بلز پر دوبارہ مشاورتی عمل شروع کرنے کیلئے متفقہ کمیٹی کے فورم کو بروئے کار لایا جائے، اپوزیشن لیڈر کو اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔
اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ مذکورہ بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں زیر غور آنے ہیں، کمیٹی کی طرف سے مشاورتی عمل مکمل نہیں ہو سکا، امید ہے اپوزیشن لیڈر اس عمل کو بامقصد بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے، سپیکر آفس اتفاق رائے پیدا کرنے میں حکومت اور اپوزیشن کو سہولت فراہم کرے گا۔