شوہر ہی قاتل نکلا،راولپنڈی پولیس نے پاکستانی نژاد امریکی شہری وجیہہ سواتی کے قتل کی تصدیق کردی

وجیہہ

اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی سے چند ماہ قبل اغوا ہو جانے والی پاکستانی نژاد امریکی شہری وجیہہ سواتی کی لاش خیبر پختونخواہ کے علاقے لکی مروت میں واقع ایک گھر کے صحن سے برآمد ہونے کے بعد پولیس نے ان کے قتل کی تصدیق کر دی ہے۔پنجاب پولیس کے ایک اعلی اہلکار نے ہفتے کو ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مقتولہ کے سابق شوہر رضوان حبیب نامی شخص نے دوران تفتیش وجیہہ کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔وجیہہ سواتی دو ماہ قبل اکتوبر میں لندن سے اسلام آباد پہنچنے کے بعد راولپنڈی کے علاقے مورگاہ سے لاپتہ ہو گئی تھیں جس کے بعد سے پولیس ان کے اغوا کا مقدمہ درج کر کے ان کی تلاش کر رہی تھی۔
سٹی پولیس آفیسر ڈی آئی جی ساجد کیانی نے پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز میں وجیہہ سواتی کے اغوا کیس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ مورگاہ کے علاقہ سے 16 اکتوبر کو اغوا ہونے والی پاکستانی نژاد امریکی خاتون وجہیہ سواتی کے اغوا کا مقدمہ مقتولہ کے بیٹے کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا جس کے بعد پولیس نے مغویہ کی رہائی کیلئے کاوشوں کا آغاز کردیا اور تمام ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے کیس کی تفتیش کو آگے بڑھایا گیا۔ہائی پروفائل کیس کی تفتیش کئی شہروں میں کی گئی اور پولیس ٹیموں نے تمام شواہد کے بغور جائزہ کے بعد ملزم رضوان حبیب کو گرفتار کیا جس نے دوران تفتیش اپنے جرم کا اعتراف کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی سفارت خانے نے بھی اپنی معلومات پنجاب پولیس کے ساتھ شئیر کیں تھیں جبکہ کیس کی تفتیش کے حوالے سے پولیس پر کسی قسم کا دبا نہیں تھا۔میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ کیس کی تفتیش ابھی جاری ہے اس لئے غیر مصدقہ تفصیلات کو خبر کا حصہ نہیں بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم کیس ہے جس پر عالمی میڈیا کی توجہ بھی مرکوز ہے اس لیے دوران رپورٹنگ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے ۔ ساجد کیانی نے کہا کہ قتل کیس کی تفتیش ابھی جاری ہے اور مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کیس کی تفتیش مکمل ہونے پر تمام تفصیلات میڈیا کے ساتھ شئیر کردی جائیں گی۔واضح رہے کہ وجیہہ سواتی کے امریکی شہریت کے حامل پہلے شوہر ڈاکٹر علی مہدی سنہ 2014 میں پاکستان کے شہر ربوہ میں قتل کر دیے گئے تھے۔ ان کے قتل کے بعد وجیہہ سواتی نے پراپرٹی کے شعبے سے منسلک رضوان حبیب نامی شخص سے شادی کر لی تھی۔
وجیہہ سواتی کیس ہے کیا؟
گذشتہ جمعے کو جب برطانیہ میں موجود دس سالہ حاشر کو پتہ چلا کہ ایف بی آئی کی ٹیم ان کے گھر آ رہی ہے تو وہ بہت پرجوش تھا کہ اس کی والدہ آنے والی ہیں لیکن جب ٹیم وہاں پہنچی تو وہ رونے لگا اور اس نے سوال کیا کہ میری ماں کیوں نہیں آئیں؟
ڈیڑھ مہینے کی تفتیش کے بعد پولیس حکام نے وجیہہ کی گمشدگی کے حوالے سے عدالت میں ہونے والی نویں سماعت پر بتایا تھا کہ کیس میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے اور وجیہہ سواتی کے ‘سابق’ شوہر اور ملزم رضوان حبیب کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور انھیں سات روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔ پولیس نے یہ دعوی کیا کہ ملزم کی گرفتاری کو زیر التوا رکھا گیا تھا کیونکہ ان کے خلاف شواہد اکھٹے کرنے کا عمل جاری تھا۔
وجیہہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ 16 اکتوبر کو وہ لاپتہ ہو گئی تھیں، لیکن ان کی گمشدگی کی ایف آئی آر دو نومبر کو درج کی گئی۔یہ ایف آئی آر ان کی پہلی شادی میں سے ہونے والے 22 سالہ بیٹے عبداللہ نے لکھوائی جو امریکہ میں مقیم ہیں۔ درخواست میں انھوں نے اپنے سوتیلے والد رضوان حبیب پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے ان کی والدہ کو مبینہ طور پر اغوا کیا ہے۔راولپنڈی کے تھانہ مورگاہ میں یہ رپورٹ درج کی گئی ہے۔ عبداللہ چونکہ بیرون ملک مقیم ہیں اس لیے انھوں نے اپنی وکیل شبنم اعوان کے ذریعے یہ رپورٹ درج کروائی۔
وجیہہ کی گمشدگی کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے پنڈی بینچ کے جسٹس شاہد محمود عباسی کی عدالت میں رٹ پٹیشن کی سماعت ہوئی تو عدالت نے پولیس کی سرزنش کی اور انھیں 30 دسمبر تک مہلت دی۔ان کی وکیل شبنم نواز کہتی ہیں کہ ‘وجیہہ کے بیٹے عبداللہ نے ان کی گمشدگی کے تیسرے روز امریکی سفارتخانے اور وزیراعظم کی جانب سے موجود شکایات کے پورٹل اور پولیس پورٹل پر اپنی شکایت دے دی تھی۔’
وجیہہ کیسے لاپتہ ہوئیں؟
ایف آئی آر کے مطابق عبداللہ نے بتایا ہے کہ ان کی والدہ 16 اکتوبر کو پاکستان آئی تھیں۔ اس سفر میں ان کے ہمراہ 15 برس کا بھانجا ایان بھی آیا تھا۔وجیہہ کے خاندان کا کہنا ہے کہ ایان کو سکول سے چھٹیاں تھیں اس لیے اس نے اپنے والدین سے کہا کہ میں نانی سے ملنے پاکستان جانا چاہتا ہوں۔ تاہم وجیہہ اپنے دونوں بیٹوں حاشر اور عاشر کو اپنی بہن اور ایان کی والدہ کے پاس چھوڑ آئی تھیں۔عبداللہ کے مطابق 22 اکتوبر کی رات کو ان کی والدہ کی پاکستان سے برطانیہ واپسی کی فلائٹ تھی، ‘میرا کزن ایان تو واپس برطانیہ پہنچ گیا لیکن میری والدہ نہیں آئیں۔’وہ کہتے ہیں کہ ان کی والدہ کے پاس ہی ان کے کزن کا پاسپورٹ تھا اور ان کی والدہ کے مبینہ اغوا کے بعد ان کے کزن کو نئے سفری دستاویزات بنوانے پڑے۔عبداللہ کہتے ہیں کہ ان کی والدہ انھیں اور ان کے بھائی کو چھوڑ کر کچھ روز کے لیے پاکستان گئی تھیں جس کی وجہ اپنے سابق شوہر رضوان حبیب کے ساتھ جائیداد اور دیگر تنازعات کو حل کرنا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق پندرہ برس کے ایان اور وجیہہ سواتی کو رضوان حبیب اپنے ساتھ ڈی ایچ اے راولپنڈی میں رہائش گاہ پر لے کر گئے اور وہاں جا کر انھیں مبینہ طور پر کوئی نشہ آور چیز پلائی۔وہ کہتے ہیں کہ ایان کو ہوش آیا تو وجیہہ سواتی وہاں موجود نہیں تھیں۔ مبینہ طور پر گھر کے ملازمین نے بچے کو کمرے میں بند کرنے کی کوشش کی لیکن وہ وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوا۔
عبداللہ نے پولیس کو درج کروائی گئی رپورٹ میں دعوی کیا کہ ‘مجھے یقین ہے کہ رضوان حبیب نے میری والدہ کو جائیداد اور ان کی زندگی لینے کے لیے اغوا کیا ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ میری والدہ کا کسی بھی قسم کا ذہنی یا جسمانی استحصال کر سکتے ہیں اور ملزم رضوان نے انھیں اور ان کی خالہ کو دھمکی دی ہے کہ اگر معاملے کو پولیس کے پاس لے کر گئے تو وہ میری والدہ کو قتل کر دیں گے۔عبداللہ نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ لاپتہ ہونے کے بعد سے والدہ سے فون پر کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
اس درخواست میں انھوں نے اپنے سگے والد ڈاکٹر علی مہدی کا ذکر بھی کیا ہے جو پاکستان میں سنہ 2014 میں قتل کر دیے گئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘ہم نے اپنے والد کو بہت دردناک واقعے میں کھویا تھا اور اب ہم اپنی والدہ کو نہیں کھونا چاہتے خدارا انھیں بازیاب کروائیں۔’
پولیس نے ایف آئی آر کاٹنے میں تاخیر کیوں کی؟
راولپنڈی پولیس میں ایس ایس پی انوسٹی گیشن غضنفر علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘پولیس کی جانب سے ایف آئی آر کے اندراج میں کوئی تاخیر نہیں کی گئی اور ایسا کہنا بالکل بے جا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ‘یہ واقعہ خاندان کے مطابق 16 اکتوبر کو ہوا ہے۔ ہمیں فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی اور جیسے ہی اطلاع دی گئی ہم نے ایف آئی آر درج کی۔’وہ کہتے ہیں کہ ‘پولیس نے جس درخواست گزار کی درخواست پر ایف آئی آر درج کی ہے وہ عبداللہ علی ہیں جو کہ امریکہ میں رہائش پذیر ہیں اور ان سے تو پولیس نے یہ بھی نہیں کہا کہ وہ پاکستان آئیں گے تو درخواست درج ہو گی۔’ان کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے اندر رٹ پٹیشن دائر ہے جس میں مسلسل پولیس حکام پیش ہو رہے ہیں اور عدالت کو آگاہ کر رہے ہیں۔
لیکن مغویہ خاتون کے خاندان اور وکیل کا الزام ہے کہ پولیس نے مقدمہ درج کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیا۔
ان کی وکیل کہتی ہیں کہ جب اہلِ خانہ نے ان سے رابطہ کیا تو اس سے پہلے 19 تاریخ کو مغویہ وجیہہ کے بیٹے عبداللہ علی وزیراعطم کے پورٹل اور امریکی سفارتخانے اور سی پی او کے پورٹل پر اطلاع کر چکے تھے۔
وکیل شبنم اعوان کے مطابق 22 تاریخ سے انھوں نے خود ایف آئی آر درج کروانے کے لیے کوششیں شروع کیں۔
‘اسلام آباد کی پولیس نے ہمیں ٹالا اور پھر کہا کہ ڈی ایچ اے جس گھر سے وہ غائب ہوئیں وہ اسلام آباد میں نہیں آتا پھر ہم تھانہ مورگاہ گئے۔ وہ بھی مقدمہ درج نہیں کر رہے تھے، ایک کہتا تھا ہمارے تھانے کی حدود نہیں دوسرا کہتا تھا ہمارے تھانے کی حدود میں نہیں۔’وہ کہتی ہیں کہ جب تھانہ مورگاہ والے مقدمہ نہیں درج کر رہے تھے تو ہم نیشنل کمیشن آف سیٹس آف وویمن کی نیلوفر بختیار کے پاس گئے۔ اسی دوران ہم نے رٹ آف ہیبس کورپس (حبس بے جا میں رکھنے سے متعلق درخواست) جمع کروائی۔’
برطانیہ میں وجیہہ کے بہنوئی مقصود احمد کے گھر میں ہاشم اور حاشر مقیم ہیں۔
انھوں نے دعوی کیا کہ ‘جب وجیہہ 16 تاریخ رضوان حبیب کی رہائش گاہ سے لاپتہ ہو گئیں اور ان کا پندرہ برس کا بیٹا ایان بھی بمشکل اس گھر سے باہر نکلا تو فوری طور پر تو اس بچے کو وطن واپس لانے کے انتظامات کیے گئے۔’
مقصود احمد کہتے ہیں کہ وجیہہ کی پاکستان میں مقیم بہن عمارہ نے رضوان کو فون کیا تو اس وقت اس نے بتایا کہ وہ وجیہہ کے ساتھ باہر نکلا ہے اور وہ دیر سے لوٹیں گے۔ عمارہ نے ہی ایان کو ان کی نانی کے گھر پہنچایا، جہاں سے ان کی واپسی کے انتظامات کیے گئے۔
وجیہہ سواتی کون ہیں؟
46 سالہ وجیہہ سواتی کا تعلق پاکستان کے شہر ایبٹ آباد سے ہے۔ اگرچہ وہ امریکہ میں گذشتہ کئی برسوں سے رہائش پذیر تھیں اور اس بار فقط چار روز کے لیے پاکستان آئی تھیں۔ ان کے تین بیٹے ہیں ایک بڑا بیٹا جس کی عمر 22 سال ہے اس وقت امریکہ میں ہے جبکہ دو بیٹے جن کی عمریں بالترتیب 15 اور دس برس ہیں، عارضی طور پر اپنی خالہ کے گھر برطانیہ میں مقیم ہیں۔وجیہہ کی وکیل شبنم اعوان کا کہنا ہے کہ مغویہ تقریبا ہر سال پاکستان آتی تھیں ان کے پہلے شوہر جو کہ ایک ہارٹ سپیشلسٹ تھے کو پاکستان میں سنہ 2014 میں مبینہ ٹارگٹ کلنگ میں قتل کیا گیا تھا۔وکیل شبنم اعوان نے بتایا کہ وجیہہ اپنے شوہر کا آلات جراحی کا کاروبار بھی سنبھالتی ہیں اور پراپرٹی سیکٹر میں انویسٹ کرتی رہتی تھیں۔ انھوں نے بزنس ایڈمسٹریشن میں ماسٹرز کیا تھا۔

وجیہہ اور رضوان کے درمیان میں کیا جھگڑا تھا؟
شبنم اعوان کے مطابق وجیہہ کی رضوان سے پہلی ملاقات یو اے ای میں ایک بروکر کی حیثیت سے ہوئی۔وجیہہ کے خاندان کا کہنا ہے کہ ہمیں پہلے نہیں معلوم تھا کہ میاں بیوی میں کیا جھگڑا ہے کیونکہ انھوں نے یہ شادی اپنی مرضی سے کی تھی اور اس کے بعد سے خاندان والوں سے ان کا رابطہ کم رہا تھا۔
وجیہہ کے بہنوئی مقصود احمد کے مطابق وجیہہ چند روز کے لیے سات سال بعد ہم سے ملنے انگلینڈ آئی تھیں اور پھر اس نے کچھ دن گزرنے کے بعد ہمیں بتایا تھا کہ رضوان نے ان کے پیسوں سے گھر لے کر انھیں کہا تھا کہ تین ماہ بعد تمھارے نام کر دوں گا لیکن پھر گھر نام نہیں کروایا۔وہ کہتے ہیں کہ ‘ہمیں وجیہہ نے بتایا کہ رضوان نے اس کے پیسوں سے خریدی گئی گاڑیاں بھی اپنے نام کروائیں تھیں اور مبینہ طور پر ستمبر 2020 میں ہنگو میں اسے کوئی دوا دے کر قتل کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔’اہلِ خانہ کی جانب سے ملنے والی دستاویزات کے مطابق مغویہ کا اپنے دوسرے شوہر رضوان سے طلاق ہو چکی تھی تاہم رضوان کا دعوی ہے کہ وہ اب بھی ان کی بیوی ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ہماری غلطی ہے کہ ہم نے رضوان پر اعتبار کیا اور وجیہہ کو پاکستان بھجوایا۔وجیہہ کے بہنوئی مقصود احمد مطابق پلان یہ تھا کہ وجیہہ کا بھائی اس کو ایئرپورٹ سے پک کرے گا لیکن وہ اس روز شہر میں نہیں تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ رضوان نے انھیں بتایا کہ میں اسے پک کروں گا۔ اور ایئرپورٹ پر جا کر وجیہہ سے کہا کہ تمھارے بھائی کے گھر بعد میں جائیں گے، رجسٹرار آفس والے آئے ہیں دستخط کروانے کے لیے پہلے ڈی ایچ اے میں گھر چلو لیکن جب وہ وہاں پہنچیں تو دستخط کروانے کے لیے کوئی نہیں پہنچا تھا۔’

کیس میں کیا پیچیدگیاں ہیں؟
گمشدگی کے واقعے کے دو ماہ بعد جب ایف بی آئی اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہے تو یہ کیس ایک اہم مقدمے کے طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن غضنفر کا کہنا ہے کہ ‘اس حوالے سے یہ ایک مشکل کیس ضرور ہے کیونکہ اس میں مرکزی ملزم کے بارے میں کوئی ڈائریکٹ شہادت نہیں تھی۔ مثال کے طور پر کوئی عینی شاہد نہیں کہ وہ بتا سکے کہ خاتون کو ملزم نے اغوا کیا ہے۔’وہ کہتے ہیں کہ تحقیقات میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کوئی عینی شاہد نہیں ہے اگر وہ ہوتا تو ہمیں پتہ چل جاتا کہ کس وقت یہ واقعہ ہوا ہے اور ہم شواہد اکھٹے کر لیتے اور تحقیقات میں مدد ملتی۔ایس ایس پی غضنفر کے مطابق دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ تحقیقات میں واقعے کے جتنی جلدی پولیس کو اطلاع مل جائے اتنا ہی اچھا ہوتا ہے تاکہ پولیس جائے وقوع سے شواہد اکھٹے کر لے۔انھوں نے کہا کہ ‘اگرچہ ایسا نہیں کہ یہ کیس ٹریس نہیں ہو سکتا لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر واقعے کے فوری بعد ایف آئی آر درج کروائی جاتی تو پولیس اب تک مغویہ کو بازیاب کروا چکی ہوتی۔’
وجہیہ کی وکیل کی یہ بھی شکایت ہے کہ پولیس نے مزم کو طویل عرصے تک چھوٹ دی تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ‘جب سے ایف آئی آر درج ہوئی ہے تقریبا روزانہ کی بنیاد پر رضوان حبیب کو پوچھ گچھ کے لیے بلوایا جاتا رہا ہے۔’حکام کا کہنا ہے کہ ‘سوشل میڈیا اکانٹ، ایڈریس، فون نمبرز، سی سی ٹی وی فوٹیج جس قدر مل سکتی تھی ان کی بنیاد پر مرکزی ملزم کو بار بار بلوایا گیا ایسا نہیں کہ ملزم کو آزاد چھوڑا گیا تھا۔’اس سوال پر کہ جب اس مقدمے میں خاتون کے خاندان کی جانب سے رضوان حبیب کے خلاف درخواست دی گئی تھی تو پولیس نے اس کی گرفتاری میں تاخیر کیوں کی ایس ایس پی انوسٹی گیشن غضنفر علی شاہ نے کہا کہ ‘مرکزی مشتبہ ملزم سے فوری طور پر پوچھ گچھ کی گئی تھی لیکن اعلی عدالتوں کے پہلے ہی یہ احکامات آ چکے ہیں کہ جب تک کسی ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد نہ ہوں تب تک اسے گرفتار نہ کری۔ان شواہد کے بارے میں سوال پر ایس ایس پی انویسٹگیشن کا موقف تھا کہ ‘ابھی یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ ہمارے پاس کیا شواہد ہیں جن کی بنیاد پر ہم نے رضوان کو گرفتار کیا۔ اس گھر کو کرائم سین کے طور پر لے کر وہاں سے جو شواہد لینے تھے وہ اکھٹے کیے ہیں’۔غضنفر علی شاہ کا کہنا ہے کہ ‘مرکزی ملزم تو یہ (رضوان حبیب) شروع سے ہی تھے اس لیے اس دوران ہم نے ان کو چیک کیا کہ انھوں نے اس روز کیا بیانات دیے۔ انھیں ہم نے کراس چیک کیا اور ان کی گرفتاری بھی جاری تحقیقات کی بنا پر ہوئی ہے’۔
امریکی سفارتخانہ چاہتا ہے کہ وجیہہ کی بازیابی کے لیے ہونے والی تحقیقات سے اسے مسلسل باخبر رکھا جائے اور وجیہہ کا خاندان پرامید ہے کہ شاید اعلی حکام کی جانب سے اس پر جواب طلبی کے بعد ان کے بارے میں جلد ہی کوئی معلومات مل سکیں گی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس میں نامزد ملزم کا نام ای سی ایل پر ڈال دیا گیا تھا جبکہ ایک اور ملزم نے پہلے ہی ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر رکھی ہے۔