مارچ روکنے کے لئے کنٹینر لگا کر اسلام آباد کو سیل کیا جاسکتا ہے تو مری میں ایک ناکہ لگا کر ضرورت سے زائد گاڑیوں کا داخلہ کیوں نہیں روکا جاسکتا

بدقسمتی سے موجودہ حکومت کا تین سالہ دور ناکامیوں سے بھر ا پڑا ہے ۔جب سے یہ حکومت اقتدار میں آئی ہے اس کی نااہلی اور ناتجربہ کاری کے باعث عوام کو ایک سے ایک مصیبت کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ مہنگائی ، بیروز گاری ، اقربا پروری اور کرپشن کی نئی نئی داستانیں سامنے آرہی ہیں نہ کسی کو سزا ملی اور نہ کوئی بہتری نظر آئی ۔جس وقت جس چیز کی عوام کو شدید ضرورت ہوئی ہے اس کی قلت ہو جاتی ہے جیسے آجکل کسانوں کو گندم کی فصل کے لئے یوریا کی شدید ضرورت ہے اور اسی کی قلت ہے اور مجبور کسانون کو یوریا بلیک میں مہنگی داموں خریدنا پڑھ رہی ہے ۔ یقیناجب حکومت کو ہوش آئے گا تو کھاد کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ مگر بدقسمتی سے جس تیزی سے حکومتی ناکامیوں میں اضافہ ہو رہا ہے اس سے کہیں تیزی سے حکومتی ذمہ داران کے بلند و بانگ دعووں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔عوام چیخ رہی ہے جس قدر عام آدمی کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے اس سے کہیں تیزی سے حکومت میں نہ مانوں کے ایجنڈے کو پروان چڑھا رہی ہے۔
دیگر مسائل تو ایک طرف حکومت کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ یہ عوام کے جان ومال کے تحفظ میں بھی بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ سانحہ مری اس کی واضح مثال ہے ۔ حکومت نے آتے ہی سیاحت کے فروغ کو اپنی آمدن کے فروغ کا اہم ذریعہ قراردیا لیکن بدقسمتی سے دیگر معاملات کی طرح اس معاملے پر پر تین سال ڈینگیں ہی ماری جاتی رہیں اور عملا صورت حال بد سے بد تر ہوتی رہی ۔کسی کو انداز ہ ہے کہ مری کے اس بدترین سانحے کے بعد پاکستان میں سیاحت کو کس قدر نقصان ہوگا۔کیا لوگ یہ نہیں سوچیں گے کہ مری میں سہولیات تو درکنار ان کی جان ہی محفوظ نہیں تو کون اپنی جان کی بازی لگا کر حکومتی خواہش پر سیاحت کے فروغ کا رسک لے گا۔
تین دن سے واقعہ کی رپورٹس طلب کی جارہی ہیں 24 کے قریب قیمتی جانیں چلی گئیں لیکن ماسوائے رپورٹس مانگنے کے کسی ذمہ دار کا تعین نہ ہو سکا۔ بدقسمتی سے یہ حکومت اس وقت حرکت میں آتی ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے ۔اب اگر مری میں گاڑیوں کے داخلے پر پابندی لگادی گئی ہے تو یہ کام پہلے کیوں نہ کیا گیا ۔ اس جدید دور میں کیا انتظامیہ اس قدر نکمی ہے کہ اسے پتہ ہی نہیں کہ مری کی سڑکوں پر زیادہ سے زیادہ کتنی گاڑیوں کی گنجائش ہے ۔اپنی غلطی ماننے کی بجائے الٹا عوام کو قصور وار ٹھہرایا جارہا ہے کہ وہ شدید برف باری میں مری گئے کیوں ؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سابقہ حکومتیں اس مسئلے کو کیسے مینج کرتی رہیں ۔جب ایک دو بار ایسا ہوا تو مری میں برفباری کے دنوں میں تیس سے چالیس ہزار سے زیادہ گاڑیوں کا داخلہ بند کردیا جاتااور ماسوائے مری کے رہائشیوں کے دیگر افراد کو مری میں داخلے سے روک دیا جاتا ۔نااہلی کی انتہاء ہے کہ جب سب کو پتہ ہے کہ مری کی سڑکوں پر تیس سے چالیس ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی گنجائش نہیں تو ایک لاکھ 62 ہزار گاڑیاں کس نے داخل ہونے دیں ۔اگر مارچ روکنے کے لئے کنٹینر لگا کر اسلام آباد کو سیل کیا جاسکتا ہے تو مری میں ایک ناکہ لگا کر ضرورت سے زائد گاڑیوں کا داخلہ کیوں نہیں روکا جاسکتا۔
نالائقی کی انتہاء دیکھیں کہ اس سانحہ کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ مری کو ضلع کا درجہ دے دیا جائے ۔ یہ فیصلہ کرنے والوں کو پتہ نہیں کہ ضلع بن جانے سے مزید دفاتر قائم ہو ں گے مزید عملہ اور عوام اپنے مسائل کے حل کے لئے مری کا رخ کرے گی اس سے رش بڑھے گا یا کم ہوگا۔ ہاں ضلع بننے سے کچھ مزید لاڈلے اور نکمے عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر مزے کرنے کے لئے اکاموڈیٹ ہو جائیں گے۔ بہتر ہوتا کہ صوبہ بنا دیا جاتا تاکہ ایک اور وزیراعلیٰ اور کابینہ بھی اکاموڈیٹ ہو جاتی۔
محمد رضوان ملک

