ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے کرپٹ ملازمین کی چیرہ دستیوں سے بچایا جائے، متاثرین ٹھلہ سیداں کی چیف جسٹس، چئیرمین نیب سے اپیل

 

اسلام آباد(نیوزرپورٹر) سیکٹر G.14/3 ٹھلہ سیداں کے رہائشیوں نے چئیرمین نیب، چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اور ڈی جی ہاؤسنگ فاؤنڈیشن سے اپیل کی ہے کہ انہیں ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے کرپٹ ملازمین کی چیرہ دستیوں سے بچایا جائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے بعض اعلیٰ افسران نے ملی بھگت سے کئی اپنوں کے نام متاثرین میں ڈال دئیے ہیں۔ اس طرح وہ متاثرین کا حق مار کر نہ صرف اپنے عزیز و اقارب کو نواز رہے ہیں بلکہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ”نوائے وقت“سے فریاد کرتے ہوئے عبدالحمید، سید سفیر شاہ، محم منظور، چودھیر سمیع و دیگر نیکہا ہے کہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی کالی بھیڑوں نے جن میں اظہر اللہ، جمیل خان، صفدر، موضع کے پٹواری ذاکر، مدثر اور دیگر نے مقامی آبادی کو ہراساں کرتے ہوئے اپنے عزیز و اقارب کے نام ڈال دئیے ہیں تاکہ جعل سازی کے ذریعے متاثرین کا حق مارتے ہوئے بھاری رقم ہاؤسنگ فاؤنڈیشن سے ہتھیا سکیں۔انہوں نے کہا ان افراد نے مکانات کے معاوضے کی لسٹ میں اپنے عزیز و اقارب کے نام ڈال دئیے ہیں جو نہ تو اس موضع کے رہائشی ہیں اور نہ ان کے یہاں مکانات ہیں۔ اگر واپڈا او رمحکمہ مال سے ریکارڈ طلب کیا جائے تو ان کی یہ کرپشن عیاں ہو جائے گی۔ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے عملے نے ملی بھگت سے ایسے افراد کو بھی پمٹ کے لئے بلڈ اپ پراپرٹی کے نمبر الاٹ کر دئیے ہیں جن کے اس گاؤں میں کوئی مکانات نہیں ہیں اور نہ ہی وہ یہاں کے رہائشی ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ مقامی افراد کی بلڈ اپ پراپرٹی کے ریٹ بھی جان بوجھ کر کم لگائے گئے ہیں جس کے خلا ف کئی جگہ درخواستیں دی گئیں لیکن شنوائی نہ ہوسکی جبکہ جن جعلی متاثرین کے نام لسٹ میں شامل کئے گئے ہیں ان کے ریٹ بھی RCC کے تحت لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے چئیرمین نیب، چیف جسٹس اور ڈی ہاؤسنگ سے اپیل کی ہے کہ ان کی داد رسی کی جائے۔