وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر مستعفی ٰ وزیراعظم نے استعفی منظور بھی کرلیا

وزیراعظم عمران خان شہزاد اکبر کی کارکردگی سے غیر مطمئن تھے ان رپورٹس میں فرق پایا گیا

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب و داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔دوسری جانب وزیراعظم نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔ٹوئٹر پر جاری بیان میں شہزاد اکبر نے اپنے استعفی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے بطور مشیراحتساب وزیراعظم کو استعفی جمع کروادیا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کے منشور کے مطابق ملک میں احتساب کا عمل جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ رہیں گے اور بطور قانون دان بھی خدمات سرانجام دیتے رہیں گے۔شہزاد اکبر کی ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹوئٹ کیا کہ شہزاد اکبر نے شدید دبا میں اپنا کام کیا۔ان کا کہنا تھا کہ مافیاز سے ٹکر لینا کبھی بھی آسان نہیں تھا لیکن آپ نے جس انداز میں کام کیا اور کیسز کو نمٹایا وہ قابل تحسین ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سے میڈیا میں یہ خبریں چل رہی تھیں کہ وزیراعظم عمران خان نے شہزاد اکبر کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک اجلاس کی روداد بھی بیان کی جارہی تھی جس کے دوران عمران خان نے شہزاد اکبر کی کارکردگی پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔میڈیا ذرائع کے مطابق 18 جنوری کو کابینہ کمیٹی کی میٹنگ میں شیخ رشید نے نوازشریف کی واپسی سے متعلق سوال اٹھایا تھا جس پر شہزاد اکبر نے نواز شریف کی واپسی کو مشکل قرار دیا تھا۔ شہزاد اکبر کو خود سے استعفی دے کر جانے کا کہا گیا بصورت دیگر وزیراعظم انہیں برطرف کرسکتے تھے۔تاہم اس وقت وزیراعظم کے ترجمان برائے سیاسی روابط شہباز گل نے ان خبروں کو غلط قرار دیا تھا۔قومی احتساب بیورو (نیب) کے سابق ڈپٹی پراسیکیوٹر شہزاد اکبر کو اگست 2018 میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب اور داخلہ مقرر کیا گیا تھا۔جولائی 2020 میں شہزاد اکبر کو اسی پورٹ فولیو کے ساتھ وزیر اعظم کے مشیر کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔شہزاد اکبر نے پاناما لیکس سے متعلق منی لانڈرنگ کیسز میں کلیدی کردار ادا کیا تھا جس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزا سنائی گئی تھی۔شہزاد اکبر کو مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کو پاکستان واپس لانے اور اپوزیشن رہنماں کے خلاف کرپشن کے مختلف مقدمات کی پیروی کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔پچھلے کچھ عرصے سے شہزاد اکبر شریف خاندان سے متعلق تواتر سے پریس کانفرنسز بھی کررہے تھے۔