وزیراعظم عمران خان نے سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے متبادل صدارتی نظام کے نفاذ پر کام شروع کر دیا

چاروں گورنر وں کی جانب سے صدارتی نظام کے نفاذ کیلئے جلد خط لکھے جائیں گے تاکہ صدارتی نظام کو لاگو کیاجا سکے ذرائع

سیاسی جماعتوں کا دبائو مہنگائی بے روزگاری سٹیٹ بینک کی خودمختاری جیسے اقدامات سے اتحادیوں کے رویوں سے وزیراعظم پریشان

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)وزیراعظم عمران خان کے خلاف سازشیں تیز ہوگئیں اور بعض اتحاد ی بھی اس میں بھر حصہ لے رہے ہیں ذرائع کے مطابق اتحادی کسی صورت سٹیٹ بینک کی خودمختاری کے خاتمہ کے حق میں نہیں ہے وزیراعظم کی جانب سے مہنگائی انصاف کی عدم فراہمی اور بے روزگاری پر قابو نہ پانے پر یہ اتحادی نالاں ہیں دوسری جانب ذرائع کے مطابق وزیراعظم ان اتحادیوں اور سیاسی جماعتوں کی بلیک میلنگ سے تنگ آ چکے ہیں اور وہ اس نظام کو ہی ٹھپ کرنا چاہتے ہیں ۔ وزیراعظم کوعمران خان کو اس بات کا بھی یقین ہو چلا ہے اگر ڈیڑھ سال اسی طرح حالات رہے تو ان کی جماعت کا نام و نشان مٹ جائے گا اس لئے مقتدر قوتوں اور عدلیہ کی مدد سے صدارتی نظام رائج کیا جانے کا امکان ہے ۔ذرائع کے ممطابق چارو ں گورنروں کے جانب سے آئین کے آرٹیکل ترتالیس پر عمل کرنے کیلئے وزیراعظم کو خطوط لکھوائے جائیں گے جس میں مطالبہ کیا جائے گا فوری طور پر صدارتی نظام کا نفا ذ کیا جائے تاکہ احتساب کا عمل تیز تر کیا جائے اور ملکی نظام کو نئے سرے سے منظم کیا جائے ۔