
یہ ملک اگست 1947 میں محمد علی جناح کی کوششوں سے وجود میں آیا۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح کے مطابق یہ نئی مملکت ایک جدت پسند مسلم اکثریتی ریاست ہوگی جہاں ‘مسلم کلچر’ معاشرے پر غالب ہوگا، مگر ریاست کا دینی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ بانی پاکستان کے مطابق مذہب ہر شخص کا اپنا ذاتی معاملہ تھا۔
جناح پاکستان بننے کے صرف ایک سال بعد ہی وفات پا گئے۔ ان کی وفات کے بعد ملک میں مختلف حکومتوں، اور جدت پسند، آزاد خیال اور قدامت پسند دانشوروں کے درمیان ملک کے مقصدِ وجود اور اس کی نظریاتی بناوٹ کے سوال پر ایک کشمکش چلتی آ رہی ہے۔
پاکستانیوں کے ساتھ دنیا بھر میں ناروا سلوک کی بڑی وجہ یہ ہے کہ آج ہم قائداعظم کا فرمان بھلا کر اپنی عزت، مرتبہ اور پاسپورٹ کا مقام خود گنوا بیٹھے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان ماضی میں اپنی تقاریر میں اکثر اوقات اس کا بات کا عہد کرتے رہے ہیں کہ وہ پاکستانی پاسپورٹ کا وقار دنیا میں دوبارہ بحال کروائیں گے مگر ان کی 3سالہ حکومت میں گرین پاسپورٹ رینکنگ میں اوپر جانے کے بجائے مزید گراوٹ کا شکار ہوگیا۔
گزشتہ دنوں دنیا کے ممالک کے پاسپورٹ کی رینکنگ پر مبنی ہینڈلے اینڈ پارٹنرز کی 2021 کی رپورٹ نظر سے گزری۔ ہینڈلے اینڈ پارٹنرز کی رپورٹ اور مختلف ممالک کی درجہ بندی کسی ملک کے پاسپورٹ کی طاقت کا معیار، اس کی بغیر ویزا انٹری یا ویزا آن آرائیول کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے اور اِس حوالے سے انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) کا تعاون حاصل رہا ہے۔
پاکستانی پاسپورٹ کے معیار میں تیزی سے گراوٹ آئی ہے اور اب یہ پاسپورٹ دنیا کے 5 کمزور ترین پاسپورٹ میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق رواں سال دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ کا اعزاز جاپان کے نام رہا جہاں کے شہری 193 ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن آرائیول کی سہولت سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں، دوسرے نمبر پر سنگاپور کے شہری193ممالک، تیسرے نمبر پر جرمنی اور جنوبی کوریا کے شہری 191 ممالک، چوتھے نمبر پر فن لینڈ، اٹلی، لکسمبرگ اور اسپین کے شہری 190ممالک جبکہ امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے بیشتر ممالک پانچویں نمبر پر ہیں جہاں کے شہری 189ممالک کا ویزا فری یا ویزا آن آرائیول سفر کرسکتے ہیں،ان میں برطانیہ بھی شامل ہے۔
پاکستان کا موبائیلیٹی ریٹ اس وقت 38 ہے یعنی وطن عزیز کے پاسپورٹ رکھنے والے 38 ممالک کا سفر کرسکتے ہیں جس میں سے ان کے لیے 8 ممالک کا ویزہ معاف ہے جبکہ 30 ممالک ایسے ہیں جہاں اترنے کے بعد انہیں ویزہ حاصل کرنا ہوگا۔ درجہ بندی کے مطابق سبز پاسپورٹ کو آخری 8 ممالک میں شامل کیا گیا ہے۔
جن ملکوں کے شہریوں کو سب سے کم ملکوں میں مفت ویزا یا ایئرپورٹ پر ہی ویزا کی سہولت میسر ہے ان میں پہلے نمبر پر افغانستان اور عراق کے شہری شامل ہیں جن کو صرف 31 ملکوں میں ویزا فری یا آن ارائیول کی سہولت حاصل ہے، جبکہ شام کے پاسپورٹ کے حامل افراد صرف 34 ملکوں میں اس سہولت سے استفادہ کر سکتے ہیں.
دنیا بھر کے ممالک کے پاسپورٹ پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے پاسپورٹ انڈیکس نے سال 2020 کی فہرست جاری کی جس کے مطابق جاپان نے ایک بار پھر دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔
فہرست کے مطابق نیوزی لینڈ دوسرے نمبر پر رہا جبکہ فن لینڈ، آسٹریا، لیوگژیم بورگ، جنوبی کوریا، سوئٹزرلینڈ، آئرلینڈ، آسٹریلیا اور ڈنمارک بالترتیب دنیا کے تیسرے، چوتھے، پانچویں، چھٹے، ساتویں، آٹھویں، نویں اور دسویں طاقت ور ترین پاسپورٹ قرار پائے۔
چاپان کے پاسپورٹ کے حامل افراد 117 ممالک کا بغیر ویزہ سفر کرسکتے ہیں جبکہ انہیں دنیا کے 82 ممالک جانے کے لیے ویزہ حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی، اسی طرح نیوزی لینڈ کا پاسپورٹ رکھنے والے بھی 117 ممالک کا سفر کرسکتے ہیں جس میں سے ان کے لیے 77 ممالک کا ویزہ معاف ہے جبکہ 40 ممالک ایسے ہیں جہاں اترنے کے بعد انہیں ویزہ حاصل کرنا ہوگا۔
فن لینڈ، آسٹریا، لیوگژیم بورگ، جنوبی کوریا، سوئٹزرلینڈ، آئرلینڈ، آسٹریلیا کے پاسپورٹ رکھنے والے افراد بغیر ویزہ حاصل کیے 116 ممالک کا سفر کرسکتے ہیں جبکہ ڈنمارک کے پاسپورٹ کے حامل افراد 115 ممالک کا بغیر کسی پابندی کے سفر کرسکتے ہیں۔
دوہری شہریت رکھنے کی اجازت دینا بھی ایک اہم جز رکھا گیا ہے اور اس میں جو ممالک بالکل یہ رکھنے کا اجازت نہیں دیتے انھیں 10 سکور دیا گیا ہے اور جو سبھی شہریوں کو اجازت دیتے ہیں انھیں 50 سکور دیا گیا ہے۔اسی طرح رہنے اور اظہارِ رائے کی آزادی کو بھی ایک اہم جز قرار دیا گیا ہے۔
نومیڈ کیپیٹلسٹ کے مطابق اس نے ڈیٹا ملکوں کے سفارتخانوں، آئی اے ٹی اے، ہینلے ویزہ ریسٹریکشن انڈیکس، ملکوں کے ٹیکسوں کے نظام، ذاتی تجربات، تجارتی مشیروں، ورلڈ ہیپینس رپورٹ، ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس، اور دوسری ایجنسیوں سے حاصل کیا ہے
پاکستانی پاسپورٹ بدستور پانچواں کمزور ترین پاسپورٹ ہے مگر اس بار ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت 32 کی بجائے 31 ممالک تک گھٹ گئی ہے جبکہ یمن اور صومالیہ کے پاسپورٹس بالترتیب 5 ویں اور چھٹے نمبر پر بدترین قرار پائے۔



