15اعلی افسران کوتبدیل کر دیا گیا جبکہ فیلڈ ڈیوٹی اہلکاروں کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہوئی
راولپنڈی :سانحہ مری کے حوالے سے بڑے عہدیداران کو تو سزا دے دی گئی ہے لیکن واقع کے اصل ذمہ دار اور نااہل مقامی اہلکاروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابقٹریفک وارڈ نزد اہلکار جو عرصہ 14سال سے تعینات ہیں نہ تبدیل ہوئے نہ انظباطی کاروائی ہوئی مری میں ہونے والے قومی سانحہ جس میں 15اعلی سطح کے افسران کو تبدیل کیا ہے وہی حکومت کی نا اہلی اور مافیا کارا ج سر چڑھ کر بولنے لگا ۔ عرصہ 14سال سے تعینات مقامی ٹریفک اہلکاروں کے خلاف کوئی محکمانہ انتظباطی کاروائی نہ ہوئی سانحہ مری کے دوران حد سے زیادہ گاڑیوں کو مری داخل کرنا اور ٹریفک کو جام چھوڑ کر اپنی نوکری سے غفلت برتتے ہوئے قیمتی جانوں کا نقصان کرنے کی اولین ذمہ دار مری ٹریفک پولیس ہے ۔ اگر مری ٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے مکمل ذمہ داری دیکھا ئی ہوتی تو اس سانحہ میں قمتی جانوں کو بچایا جا سکتاتھا ۔لیکن اس طرف کسی نے توجہ نہیں دی اور نہ کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ذرائع کے مطابق 26اہلکار ایسے ہیں کہ جب سے محکمہ بناتب سے مری میں تعینات ہیں۔عوامی و سماجی حلقوں نے سوال کیا ہے کہ حکومت وقت کے پاس اس مافیا کا کوئی حل ہے ؟



