چینی شہریوں نے بھی محبت کا ثبوت دیتے ہوئے شاکر کے لباس پر پاکستان سے بھائی شاکر کے الفاظ کندہ کرائے

نان ننگ (شِںہوا) چین کے جنوبی گوانگ شی ژوآنگ خوداختیارخطے کے شہر بائی سے میں مقامی وبا کے ردعمل میں مدد کے لئے رضاکار بننے والے پاکستانی نوجوان عظیم محمد شاکر کی خدمات کو مقامی باشندوں نے سراہا ہے۔ شہر بائی سے کو میں اپنا دوسرا گھر تصور کرتا ہوں۔میں نے رہائشیوں سے کہا کہ میں یہاں کا مقامی شہری ہوں۔ انہیں میرے الفاظ کی صداقت پر یقین تھا۔ وہ مجھے واضح طور پر نہیں دیکھ سکتے تھے کیونکہ میں نے حفاظتی سوٹ اور چہرے پرماسک پہنا ہوا تھا۔
شاکر نے فخر کے ساتھ کہا، ” اس میں میرے چینی زبان میں بائی سے کے مقامی لہجے کا بھی تھوڑا حصہ ہے۔ بعد میں جب انہیں پتہ چلا کہ میں پاکستان سے آیا ہوں تو انہوں نے میرے حفاظتی سوٹ پر ” پاکستان سے بھائی، شاکر’ کے الفاظ لکھے۔
شاکر کے چین میں قیام کو رواں سال 9 برس ہوجائیں گے۔ وہ 2013 میں گوانگ شی کے بائی سے شہر میں واقع یوجیانگ میڈیکل کالج فار نیشنلیٹز میں طب کی تعلیم کے لئے آئے تھے۔فارغ التحصیل ہونے کے بعد انہوں نے چین میں قیام کا فیصلہ کیا اور اب وہ بائی سے کے ایک فٹنس مرکز میں کام کررہے ہیں ۔28 سالہ شاکر نے فروری کے شروع میں بائی سے شہر میں وبا کے تازہ ترین پھیلا کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد اس سرحدی شہر میں وبا ء کے خلاف جنگ میں رضاکارانہ طور پر شمولیت اختیار کی۔

وبا کے پھیلا ئوکے ساتھ بائی سے بھر میں گھروں میں قرنطینہ نافذ کردیا گیا ۔ فٹنس مرکز جہاں شاکر کام کرتے ہیں وہ بھی کچھ عرصے کے لئے بند ہوگیا۔شاکر نے کہا کہ انہوں نے رضاکار بننے کا انتخاب صرف اس لئے نہیں کیا کہ میں میڈیکل کا طالب علم ہوں بلکہ اس لئے بھی کیا ہے کہ چین، شہر اور لوگ میری مدد میں پیش پیش رہے۔ مجھے کچھ کرنے کے لیے پہل کرنا چاہئے کیونکہ شہر کو اس کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب سے اپنی رضاکارانہ خدمت شروع کی ہے تب سے میں انسداد وبائی امراض جیسے نیوکلک ایسڈ سیمپلنگ سائٹس اور نامزد طبی اداروں کے ساتھ کام کرنے میں مصروف ہوں
"میں اس وبا بارے زیادہ پریشان نہیں ہوں۔ چین میں وبائی امراض کی روک تھام اور تدارک کے اقدامات بہت اچھے ہیں اور چینی حکومت اپنے عوام کا بہت خیال کرتی ہے ۔ ہم ایک خاندان کی مانند ہیں”۔
انہوں نے کہا کہ جہاں کہیں بھی وبا پھیلتی ہے، تمام فریق مدد اور امداد کے لیے آتے ہیں۔
اس عرصے میں شاکر کو سرکاری عہدیداروں کی طرف سے کئی کالز موصول ہوئیں جن میں ان کی ضروریات بارے پوچھا گیا جس سے انہیں گرم جوشی کا احساس ہوتا اور کمیونٹیز کے لیے مزید کام کی ترغیب ملتی تھی۔ ہر کوئی اس بیماری کی روک تھام اور تدارک پر قابو پانے کی پوری کوشش کررہا ہے۔شاکر نے کہا کہ ہماری رضاکار ٹیم بھی مل کر کام کررہی ہے اور رہائشی ہمارے کام میں معاون اور شکر گزار ہیں۔
چونکہ سرحدی شہر میں وبا بنیادی طور پرختم ہورہی تھی، کمیونٹی پر کنٹرول منظم طریقے سے ختم ہونا شروع ہوچکا ہے شاکر جس فٹنس سینٹرمیں کام کرتے ہیں وہ دوبارہ کھل چکا ہے۔
"اگرچہ قرنطینہ کا وقت تھا لیکن ہم بہت کم عرصے میں معمول کی زندگی پر لوٹنے کے قابل ہوگئے ہیں شاکر نے کہا کہ چین نے وبا کی روک تھام اور تدارک کے لئے جس سرعت سے کام کیا میں اس کی قدر کرتا ہوں۔”


