ٹوائلٹ صاف کرنے والوں کو ہی پہلے وطن واپس بھیجیں گے ،بھارتی سفارتحانے کے اہلکار جلد واپسی کے خواہشمند طلباسے ٹوائلٹ صاف کرواتے رہے

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے دوران یوکرین میں پھنسے انڈین طلبا کی مصیبتیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔آئے دن کوئی نہ کوئی نئی ویڈیو سامنے آ رہی ہے جس سے انڈین طلبا کی کمسپرسی ظاہر ہوتی ہے۔حال ہی میں انڈیا واپس آنے والی ایک طالبہ کا ویڈیو سامنے آیا جس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ انڈین سفارتخانے کے عملے کا سلوک ناروا تھا اور انھوں نے ان کے سامنے یہ شرط رکھی کہ جو ٹوائلٹ صاف کرے گا اسے پہلے ملک واپس جانے دیا جائے گا۔دریں اثنا انڈیا کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور وی مرلی دھرن نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا ہے کہ آپریشن گنگا پوری طرح سے سرگرم عمل ہے اور یہ کہ اب تک 11 ہزار سے زیادہ طلبا کو یوکرین سے نکلا جا چکا ہے۔انڈیا نے یوکرین سے اپنے طلبہ کو نکالنے کی مہم کو ‘آپریشن گنگا’ کا نام دیا ہے اور اس کے تحت گذشتہ ایک ہفتے سے درجنوں پروازیں عمل میں آئی ہیں۔ہر چند کہ یوکرین اور روس دونوں ممالک انڈین طلبا کے ملک سے باہر نکلنے میں امداد پر آمادہ نظر آتے ہیں لیکن جنگ کے نو دن بعد بھی بہت سے طلبا کے لیے یہ جیسے کوئی مستقل خوفناک خواب ہے۔گذشتہ روز انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر بی وی سرینیواسن نے یکے بعد دیگرے کئی ٹویٹس کیے جس میں یوکرین سے آنے والے طلبہ نے اپنی حالت زار کا رونا رویا۔انڈیا میں حزب اختلاف کانگریس پارٹی کے رہنما راہل گاندھی نے بھی اس کے متعلق یکے بعد دیگرے کئی ٹویٹ کیے ہیں۔ ایک ٹویٹ میں انھوں نے لکھا: "مجبور طلبہ کے ساتھ ایسا شرمناک برتا پورے ملک کی بے عزتی ہے۔ آپریشن گنگا کے کڑوے سچ نے مودی حکومت کا اصل چہرہ دکھایا ہے۔”ایک دوسرے ٹویٹ میں انھوں نے لکھا: ‘انڈین طلبہ پر سوال اٹھانے کے بجائے مودی حکومت خود سے سوال کیوں نہیں کرتی۔ بحران میں پھنسے طلبہ نے سرکار کے ظلم اور ناکامی کا سچ دکھا دیا ہے۔’