امریکہ چین کے ساتھ تعلقات کو واپس معمول پر لانے ،چینی وزیر خارجہ

بڑے ممالک کے درمیان مقابلہ کو معمول نہیں بننا چاہئے اور کسی کو نقصان پہنچا کر فائدہ اٹھاناصحیح انتخاب نہیں ہے

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی دارالحکومت بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں 13ویں نیشنل پیپلز کانگریس (این پی سی) کے پانچویں اجلاس کے موقع پر ویڈیو لنک کے ذریعے ملکی خارجہ پالیسی اور خارجہ تعلقات کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے۔(شِنہوا) 


بیجنگ(شِنہوا) چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی چین کی پالیسی کو استدلال اور عملیت پرمبنی درست راہ اور دوطرفہ تعلقات کو صحت مند اور مستحکم ترقی کے صحیح راستے پر واپس لائے۔
نیشنل پیپلزکانگریس کے پانچویں اجلاس کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ کو مخالفانہ مسابقتی تعاون کے سہ جہتی عناصر کو باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور یکساں تعاون کے تین اصولوں میں بدلنا چاہئے۔وانگ نے کہا کہ بڑے ممالک کے درمیان مقابلہ کو معمول نہیں بننا چاہئے اور کسی کو نقصان پہنچا کر فائدہ اٹھاناصحیح انتخاب نہیں ہے۔
وانگ نے مزید کہا کہ گلوبلائزڈ اور ایک دوسرے پر منحصر دنیا میں، دونوں ممالک کس طرح آگے بڑھنے کا صحیح راستہ تلاش کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کا انتظام کرتے ہیں، یہ دونوں ہی انسانیت کے لیے نئے سوال ہیں اور اس چیز کو چین اور امریکہ دونوں کو مل کر وضع کرنا چاہئے۔اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ رواں سال "شنگھائی اعلامیہ کی 50 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے، وانگ نے کہا کہ چین اور امریکہ کو اس حقیقت کو دوبارہ قبول کرنے کی ضرورت ہے کہ اس اعلامیہ نے دونوں ممالک کے درمیان جمود کو پانچ دہائیوں قبل توڑنے میں مدد کی اور دونوں ایک نئے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔
۔۔