پاکستان نے مجھے شناخت ، پیار اور عزت دی اس کے بدلے اس ملک کی نئی نسل کے لئے کچھ کرناچاہتا ہوں، ڈاکٹر کاشف
پاک بھارت کلچر ، زبان اور ثقافت ایک ہے عوا م ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ،دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات میرا مشن ہے،نواب کاظم علی خان

اسلام آباد:ڈائیریکٹر پاکستان انٹر نیشنل ہیومن رائیٹس اور پاکستان تحریکِ انصاف کی سرگرم کارکن شمائلہ اسرار صدیقی ( جو بطور ڈپٹی جنرل سکیٹری پی ٹی آئی میں اسپورٹس اور کلچر کی تنظیم میں اپنی کئی خدمات سرانجام دے چکی ہیں )نے نواب آف رام پور انڈیا ، نواب کاظم علی خان کی پاکستان آمد اور خاص طور پر ڈاکٹر کاشف انصاری کو مارچ کے موقع پر حکومتِ پاکستان کی جانب سے پاکستان کے لئے کی گئی خدمات پر پرائیڈ آف پاکستان ک کا اعزاز ملنے پر ان کے اعزاز میں خصوصی ظہرانے کا اہتمام کیا ۔(ڈاکٹر کاشف انصاری نے کراچی سے میڈیکل کی تعلیم لی اور اب کئی سال سے امریکہ میں پریکٹس کر رہے ہیں مگر پاکستان کی محبت سے دل سرشار ہے اور دنیا کی چند بڑے بون میرو ٹرانس پلانٹ کے ڈاکٹرز میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ویسے تو اب تک ڈاکٹر صاحب کی پاکستان کے لئے کئی خدمات ہیں اور پاکستان میں مفت علاج اور خاص کر تھلسیمیا پر بہت کام کیایہ ان کی خدمات ہیں کے اب تک وہ ایک سو تیس ملین لوگوں کو چند سال میں مفت علاج اور خون کے عطیات کی سہولت عمر ثنا فاونڈیشن کے طفیل کر چکے ہیں ۔
اس کے علاوع ترکی کے ساتھ مل کر صالح الدین ایوبی پر ایک طویل سیریل بھی انصاری پروڈکشن کے زیرِ نگرنی بنا رہے ہیں جس کا مقصد نئی نسل کو ان کے اصل ہیروز اور اسلام میں مرد کے تشخص کو روشناس کروانا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کے اس ملک پاکستان نے مجھ کو شناخت ، پیار اور عزت دی اور اب وہ اس ملک کی نئی نسل کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں اور یہ ضروری ہے کے نئی نسل اپنے اصل ہیروز کو جانے۔
اس موقع پر شمائلہ صدیقی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کاشف انصاری میرے بھائی ، میرے بڑے اور میرے لیے رول ماڈل ہیں اور مجھے ان پر فخر ہے ۔
یہ بھی ایک اچھا اتفاق ہے کے اس دعوت کے موقع پر ہندوستان کے نواب آف رام پور بھی مدعو تھے ۔ نواب نصاحب کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور ہر بار پاکستان امن اور سلامتی کا پیغام لے کر آتے ہیں اور چاہتے ہیں کے دونوں پڑوسی ممالک میں اچھے تعلقات قائم ہوں ہمارا کلچر ،ثقا فت اور زبان ملتی ہے اور عوام ایک دوسرے کو چاہتی ہے ہم کو اس خطہ میں امن قائم رکھنا چاہیے ۔
محترمہ شمائلہ صدیقی صاحبہ کا سلسلہ نسب مولانہ محمد علی جوہرسے ملتا ہے اور ان کا خاندان ہجرت سے پہلے رام پور سے رہا اور اب بھی خاندان کے لوگ وہاں موجود ہیں ان کا خاندان مولانامحمد علی جوہر کا خاندان ہے جس کی بنا پر ان کا کہنا ہے کے مجھے میرے خاندان کے خون ، بڑوں ، بزگوں اور آباو اجداد پر فخر ہے کے ان کا نام مرتے دم تک اس ملک کے لئے بھی باعثِ فخر رہے گا ۔
خاندان کے نام کی ذمے داری ان کی نسلوں تک ہوتی ہے جس کے بارے میں انہوں نے کہا کے اللہ پاک سے دعا ہے کے میرے ہاتھ سے بھی خداوند کوئی اچھا اور نیک کام لے جو میرے مرنے کے بعد بھی مجھ کو دنیا میں اچھے نام سے زندہ رکھے ۔ شمائلہ ایک محبِ وطن پاکستانی ہیں جو بیرون ملک سے واپس پاکستان منتقل ہو ئیں اور اب پاکستان کے لئے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کے پاکستان کو ایسی نسل کی ضرورت ہے جو اس وطن کے لئے جذبے اور محبت سے کچھ کرنا چاہتی ہو ہم سب کو چاہیے کے ہم اپنے اپنے حصے کی شمع روشن کرتے چلیں ۔




