قومی اسمبلی آج وزیراعظم کی قسمت کا فیصلہ کرے گی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سمیت چھ نکاتی ایجنڈا جاری

اسپیکر قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے اپنا تین اپریل کا حکم نامہ واپس لے لیا
پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے شرمناک شکست سے بچنے کے لئے اجتماعی استعفوں کی تجویز پیش کر دی


اسلام آباد:قومی اسمبلی کا اجلاس ہفتہ 9اپریل کو صبح ساڑھے 10 بجے طلب کیا گیا ہے۔اجلاس سپریم کورٹ کے حکم پر عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لئے طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں حکومت کی یقینی شکست سے بچنے کے لئے پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے شرمناک شکست سے بچنے کے لئے اجتماعی استعفوں کی تجویز پیش کی ہے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری اعلامیے کے چھ نکاتی ایجنڈے کے مطابق اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہو گا، پھر حدیث و نعت خوانی کے بعد قومی ترانہ بجایا جائے گا۔اس کے بعد الگ سے سوالات شامل کیے جائیں گے جس کے بعد فہیم خان توجہ دلا نوٹس پر کنٹونمنٹ بورڈ میں کونسلرز کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا معاملہ اٹھائیں گے۔
ایجنڈے میں چوتھا آئیٹم تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا ہے۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمد شہباز شریف نے 28 مارچ 2022 کو درج ذیل قرارداد پیش کر کے ووٹنگ کی درخواست کی تھی، اس قرارداد کے مطابق، اس قرارداد کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 95 کی شق (1) کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کا یہ ایوان قرار دیتا ہے کہ اسے وزیر اعظم جناب عمران خان پر عدم اعتماد ہے اور اس کے نتیجے میں وہ شق (4) کے تحت عہدہ چھوڑ دیں۔
اس کے علاوہ پوئنٹ آف آرڈر کے علاوہ رول18 کے تحت معاملات اٹھائے جائیں گے جبکہ توجہ دلا نوٹس میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر بات کی جائے گی۔
تحریک عدم اعتماد مسترد
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن نے 8 مارچ کو تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی جس پر تاخیر کے بعد 3 اپریل کو ووٹنگ متوقع تھی۔تاہم ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی سربراہی میں ہونے والے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہیں وقفہ سوالات میں بات کرتے ہوئے وزیر قانون فواد چوہدری کی جانب سے قرارداد پر سنگین اعتراضات اٹھائے گئے۔فواد چوہدری نے اپوزیشن کی پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کو بیرونِ ملک سے پاکستان میں حکومت تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے عدم اعتماد کی تحریک کو آئین و قانون کے منافی قراد دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا اور اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا تھا۔
سپریم کورٹ از خود نوٹس اور فیصلہ
قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی جانب سے اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد بغیر ووٹنگ مسترد کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ازخود نوٹس لیا تھا۔از خود نوٹس کے علاوہ مختلف پارٹیوں کی جانب سے عدالت عظمی میں درخواستیں دائر کی گئی تھیں جن پر سماعت کے لیے رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔
جمعرات کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے متفقہ طور پر ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ اور صدر مملکت کے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تمام ججز کا متفقہ فیصلہ ہے، ہم نے ایک دوسرے سے مشورہ کیا، ڈپٹی اسپیکر کی 3 اپریل کی رولنگ غیر آئینی تھی جبکہ وزیر اعظم صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس نہیں دے سکتے تھے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قومی اسمبلی کو بحال کرتے ہوئے اجلاس 9 اپریل کو بلانے کی ہدایت تھی ۔
فیصلے میں حکم دیا گیا تھا کہ ووٹنگ کرائے بغیر اسمبلی کا اجلاس ملتوی نہ کیا جائے اور تحریک عدم اعتماد منظور ہونے پر قومی اسمبلی نئے وزیراعظم کو منتخب کرے گی۔عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہو تو حکومت اپنے امور انجام دیتی رہے گی اور کسی رکن قومی اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے روکا نہیں جائے گا۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے اپنا تین اپریل کا حکم نامہ واپس لے لیا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے تین اپریل کا حکم نامہ واپس لینے کے بعد تین اپریل کا اجلاس ملتوی کرنے کا آرڈر واپس لینے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔واضح رہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے 3 اپریل کو عدم اعتماد مسترد کرنے کی رولنگ دینے کے بعد اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیا تھا۔
دوسری طرف یراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی سیاسی کمیٹی نے وزیراعظم کو وفاق، پنجاب اور کے پی سے مستعفی ہونے کی تجویز دے دی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں عوامی رابطہ مہم تیز کرنے اور تمام اضلاع میں جلسے کرنے کا فیصلہ کیا گیا جب کہ جلسوں میں عوام کو حکومت کے خلاف سازش سے متعلق اعتماد میں لیا جائیگا۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ اجلاس میں مراسلے میں مبینہ سازش کوپبلک کرنے یا نہ کرنے سے متعلق تجاویزلی گئیں، ارکان نے مراسلے کی سیکریسی اور عدالتی حکم کی روشنی میں تجاویز دیں جب کہ وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن کی بیرونی سازش کا آلہ کار بننے کو بے نقاب کرچکے ہیں۔
ذرائع کیمطابق سیاسی کمیٹی نے کہا کہ عوام کا دبا ئوہے لہذا خط کو پبلک کیا جائے اور ہمیں اس سلسلے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت کو گرانے کے لیے بیرونی سازش کی گئی، اپوزیشن عوام میں جانے سے گبھرا گئی۔ذرائع کا بتانا ہیکہ اجلاس میں اجتماعی استعفوں پر بھی مشاورت کی گئی اور سیاسی کمیٹی نے وفاق، پنجاب اور کے پی سے مستعفی ہونے کی بھی تجویز دی۔