خان صاحب کا آخری گیند تک مقابلے کا مطلب یہ تھا کہ اقتدار بچانے کے لئے آخری حد تک جائوں گا،رفعت عباسی

اسلام آباد:پاکستان مسلم لیگ ن کلچرل ونگ راولپنڈی ڈویژن کی صدر رفعت عباسی نے کہا ہے کہ جدید سیاست کے بانی ارسطو پیدائش ( 384 ق م ) نے کہا تھا کہ کامیاب سیاستدان وہ ہے جو معاشرے میں موجود ایک دوسرے سے مختلف اور متصادم مفادات کے حامل سوشل گروپس کے درمیان توازن پیدا کرکے معاشرتی استحکام اور تعاون قائم کرسکے۔
ایک مستحکم ریاست نے طاقت کے کردار کو تسلیم کیا تھا بعد میں اسی اصول کو سائنٹیفک انداز میں بیان کرکے سترہویں صدی کے مشہور انگریزی سیاسی مفکر, Thomas Hobbesنے ریاست کی نوعیت اور اس کی اہم خصوصیت (اقتدار اعلی) کا نظریہ پیش کیا جسے اب بھی مستند سمجھا جاتا ہے آزاد خودمختار ریاستوں پر مشتمل موجودہ عالمی نظامِ ریاست کی اسی تعریف پر مبنی ہے جو Hobbes نے پیش کی اور اِسے 48-16 میں معاہدہ ویسٹ فالیا – The Peace of Westphalia کے تحت یورپ کی تمام قوموں نے تسلیم کیا خان صاحب کا وہ مشہورِ زمانہ جملہ کے میں آخری گیند تک مقابلہ کروں گا جس کا اصل مطلب یہ تھا کہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے خان صاحب کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور حالیہ دنوں میں انہوں نے یہ سب کر دکھایا ۔خان صاحب فرماتے رہیں ہے کہ سیاستدان اگلے الیکشن کا سوچتا ہے اور لیڈر اگلی نسل کا ان کا حق ہے کہ وہ الیکشن جیتنے کیلئے اپنی حکمت عملی بروئے کار لائے مگر یہ نہ بھولے کہ لیڈر الیکشن جیتے یا ہارے معاشرے میں تضادات کو بڑھاتا نہیں کم کرتا ہے اختلاف سے فائدہ نہیں اٹھاتا اسے ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے اپنے دعوے کے برعکس وہ جس راستے پر چل رہے ہیں وہ تضاد اور تقسیم کا راستہ ہے یہ وہی راستہ ہے جو آگے جاکر بند ہو جاتا ہے اور بند راستوں کے مسافر کبھی منزل پر نہیں پہنچتے۔