ترقی نہ تنخواہ میں اضافہ،عمران نے بیوروکریسی کو بھی زچ کیے رکھا

لاہور:عمران خان حکومت کی افسران مخالف پا لیسیوں کی گرفت کمزور پڑتے دیکھ کر بیوروکریسی نے بھی ناراضگی دکھاتے ہوئے مختلف معاملات پر چپ سادھ لی۔ سول اسٹبلشمنٹ(بیوروکریسی) کے انتہائی معتبر ذرائع نے جنگ کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم نے گریڈ 21 سے 22 میں افسران کی ترقیوں کے لئے ہونے والا بورڈ پونے دوسال تک روکے رکھا اور کسی افسر کی ترقی نہ ہو سکی۔ گریڈ 22 میں ترقیوں کے لئے آخری پروموشنل بورڈ جون2020 میں ہوا تھا۔ ترقیاں نہ ہونے کی وجہ سیسینئرترین افسران سابقہ حکومت سے ناراض رہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے رولز آف پروسیجر کے تحت پروموشن بورڈ کروانے کی بجائے ترقیوں کے لئے افسران کے پرسنل انٹرویو کرناشروع کر دیئے۔ ذرائع کے مطابق اگرچہ وزیر اعظم کا ترقیاں دینیکے حوالے سے استحقاق ہوتا ہے لیکن جن افسران کے انٹرویو ہی نہ ہوسکیاور انہیں ترقیاں نہ مل سکیں ان میں ناراضگی اورشدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی حکومت میں افسران کی جبری ریٹائرمنٹ کا سلسلہ بھی متعارف کروایا گیا۔ سابقہ حکومت کی اس پالیسی کے تحت کوئی افسر جبری ریٹائر نہ ہوا البتہ اس پالیسی کے خلاف بعض افسران نے عدالتوں سے بھی رجوع کیا ۔ سابقہ حکومت نے روٹیشن پالیسی بھی متعارف کروائی جس کے تحت ایک صوبے میں 10 سال یا اس سے زائد عرصہ سے تعینات افسران کو صوبہ بدر کیا گیا یا پھر ان کو وفاقی دارلحکومت میں تعینات کر دیا گیا۔