پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف پاکستان کے 23ویں وزیراعظم منتخب، عہدے کا حلف بھی اٹھالیا

صدر عارف علوی بیمار ، چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی نے نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف سے عہدے کا حلف لیا
ترک صدر رجب طیب اردوان نے فون کر کے شہباز شریف کو مبارکباد دی اور ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا


اسلام آباد:پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف پاکستان کے 23 ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے ہیں اور انہوں نے اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا ہے۔ ایوان صدر میں منعقدہ تقریب حلف برداری میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف سے حلف لیا جہاں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سمیت اتحادیوں جماعتوں کے اراکین اور نائب صدر مسلم لیگ (ن) مریم نواز بھی شریک تھیں۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے نئے وزیراعظم شہباز شریف کو مبارک باد دی۔
قبل ازیں شہباز شریف متحدہ اپوزیشن کے امیدوار کی حیثیت سے 174 ووٹ سے پاکستان کے 23 ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے تھے اور سیکریٹری قومی اسمبلی نے شہباز شریف کا وزیراعظم کی حیثیت سے نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا۔پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کا بائیکاٹ کئے جانے کے باعث ان کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے شاہ محمود قریشی کو کوئی ووٹ نہ ملا۔
جس کے بعد ایوان صدر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی علیل ہیں اور ڈاکٹروں نے چند دنوں کے لیے آرام کا مشورہ دیا ہے۔صدر مملکت کی علالت کے باعث چیئرمین صادق سنجرانی نے نومنتخب وزیراعظم سے حلف لیا۔
وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد تقریر میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے سے ڈرامہ چل رہا ہے کہ کوئی خط آیا ہے، کہاں سے آیا ہے، میں نے نہ وہ خط دیکھا نہ مجھے وہ خط کسی نے دکھایا، میں سمجھتا ہوں کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں کہتا ہوں کی اس خط پر پارلیمان کی سیکیورٹی کمیٹی میں ان کیمرہ بریفنگ دی جائے۔انہوں نے کہا اس خط پر پارلیمان کی سیکیورٹی کمیٹی کی ان کیمرہ بریفنگ میں مسلح افواج کے سربراہان، خط لکھنے والے سفیر اور اراکین پارلیمنٹ موجود ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر خط کے معاملے میں ذرہ برابر بھی سچائی ثابت ہوئی تو میں وزارت عظمی سے اسعتفی دے کر گھر چلا جاں گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے مراسلہ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ قوم جاننا چاہتی ہے کہ اس خط میں کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کی معشیت کو پروان چڑھانا ہے، جمہوریت اور ترقی کو آگے بڑھانا ہے تو ڈیڈ لاک نہیں ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، تقسیم نہیں، تفہیم سے کام لینا ہوگا، نہ کوئی غدار تھا ہے نہ کوئی غدار ہے، ہمیں احترام کے ساتھ قوم بننا ہوگا۔
وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں غریب آدمی پریشان ہوچکا ہے، ہم مہنگائی کا زور کسی حد تک کم کرنے کیلئے عوام کو فوری ریلیف دے رہے ہیں۔
نومنتخب وزیراعظم کی جانب سے عوامی مفاد میں کیے جانے والے اعلان کے اہم نکات یہ ہیں:
یکم اپریل سے کم از کم ماہانہ اجرت 25 ہزار روپے ہوگی۔سرمایہ کاروں، صنعتکاروں سے ماہانہ ایک لاکھ تنخواہ کے حامل افراد کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی اپیل۔یکم اپریل سے سول اور ملٹری ریٹائرڈ پنشنرز کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ ہوگا۔صوبوں کے تعاون سے ملک بھر کے بازاروں میں رمضان پیکج کے تحت سستا آٹا فراہم کیا جائے گا۔نوجوانوں کو مزید لیپ ٹاپس دیے جائیں گے اور تعلیم اور ہنر فراہم کیا جائے گا۔بینظیر کارڈ دوبارہ لے کر آئیں گے، پروگرام کو مزید وسعت دی جائے گی اور تعلیم کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔
سی پیک کو پاکستان اسپیڈ سے چلایا جائے گا اور منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔