یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب سابق وزیر اعظم عمران خان نے مہم شروع کر رکھی ہے کہ ان کی برطرفی کے پیچھے ‘غیر ملکی سازش’ ہے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی دھمکی تھی تو اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے سے اس پر احتجاج کیوں نہیں کیا گیا ؟ مراسلہ آنے کے بعد کئی روز خاموش کیوں بیٹھے رہے؟
امریکہ کی جانب سے بھی قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامئیے کا خیرمقدم، ہمیشہ مضبوط، خوش حال اور جمہوری پاکستان کو امریکی مفادات کے لیے اہم سمجھا ہے،جلینا پورٹر

اسلام آباد:قومی سلامتی کمیٹینے اپنے اعلامیہ میں قراردیا ہے عمران خان کی حکومت کو ہٹانے میں کوئی غیر ملکی سازش ثابت نہیں ہوئی۔وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کا 38واں اجلاس ہوا، اجلاس میں امریکا میں تعینات سابق پاکستانی سفیر اسد مجید نے مبینہ دھمکی آمیز مراسلے پر بریفنگ دی۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے سے موصول ہونے والے ٹیلی گرام پر تبادلہ خیال کیا، امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر نے اپنے ٹیلی گرام کے سیاق و سباق اور مواد کے بارے میں کمیٹی کو آگاہ کیا۔
اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ رانا ثنااللہ، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا اور مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کی۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے مراسلے کے مواد کا جائزہ لیا اور کمیٹی کے آخری اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی۔
وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کو اعلی ترین سیکیورٹی ایجنسیوں نے دوبارہ مطلع کیا ہے کہ انہیں کسی سازش کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔اجلاس کے دوران قومی سلامتی کمیٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کوئی غیر ملکی سازش نہیں ہوئی ہے۔
قومی سلامتی کمیٹی ملک کے سیکیورٹی معاملات پر رابطوں کا اعلی ترین فورم ہے، جس کی سربراہی وزیر اعظم کرتے ہیں اور اس میں اہم وفاقی وزرا، مشیر قومی سلامتی، مسلح افواج کے سربراہان اور خفیہ اداروں کے اعلی عہدیدار شامل ہوتے ہیں۔
این ایس سی کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے ایک مہم شروع کر رکھی ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ ان کی برطرفی کے پیچھے ‘غیر ملکی سازش’ ہے۔
دوسری طرف وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی دھمکی تھی تو اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے سے اس پر احتجاج کیوں نہیں کیا گیا ؟ مراسلہ آنے کے بعد کئی روز خاموش کیوں بیٹھے رہے؟
حنا ربانی کھر نے کہا کہ آج قومی سلامتی کمیٹی میں اسد مجید سے سائفر سے متعلق پوچھا گیا، سفیر نے وضاحت کے ساتھ سائفر کے مندرجات سے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کو آگاہ کیا۔ٹیلی گرام کی آخری 3 لائنوں میں اسسمنٹ کا ذکر تھا، حنا ربانی کھر نے کہا کہ سائفر میں جو زبان استعمال کی گئی اس کی بنیاد پر سفیر نے ڈی مارش کی تجویز دی تھی، سفیر نے کہا سائفر میں جو زبان استعمال کی گئی وہ غیر معمولی تھی۔
وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستانی سفیر اسد مجید نے پروفیشنل انداز میں اپنا فرض ادا کیا، سائفر میں افغانستان، یوکرین اور پاک امریکا تعلقات پر بات کی گئی تھی۔
حنا ربانی کھر نے کہا کہ ادارے اور مراسلہ لکھنے والے سفیر متفق ہیں اسے سازش نہیں کہا جا سکتا، سابقہ حکومت کی جانب سے جھوٹ اس تواتر سے بولا گیا کہ سچ محسوس ہونے لگے۔انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے اس سائفر کو کبھی خط کہا تو کبھی مراسلہ کہا۔
امریکا نے پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کا خیر مقدم کیا ہے۔جاری کیے گئے ایک بیان میں امریکی محکمہ خا رجہ کی نائب ترجمان جلینا پورٹر Jalina Porter نے کہا ہے کہ امریکا مسلسل کہہ رہا ہے کہ ان الزامات میں قطعی کوئی صداقت نہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم این ایس سی کی میٹنگ کے اعلامیے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے مزید کہا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔جلینا پورٹر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیشہ مضبوط، خوش حال اور جمہوری پاکستان کو امریکی مفادات کے لیے اہم سمجھا ہے۔



