پی ٹی آئی کی سمت کب درست ہوگی ؟

عمران حکومت کے خاتمے کو بیرونی سازش قراردے رہے ہیں جبکہ وزراء اسٹیبلشمنٹ سے خراب تعلقات کو
پونے چار سال حکومت کرنے کے بعد وہ پی ٹی آئی حکومت تمام محاذوں پر بری طرح ناکام رہی اور اب بھی انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کیا چورن لے کر عوام کے پاس جائیں
پوری جماعت کی توجہ صرف اس بات پر ہے کہ حکومت کی توجہ ان کے احتساب سے ہٹ کر انتخابات کی طرف ہو جائے اس طرح پی ٹی آئی کو چند ماہ کی مہلت مل جائے گی اور بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی


اسلام آباد(محمد رضوان ملک )پاکستان تحریک انصاف جس طرح چار سال تک اقتدار میں رہنے کے باوجود ملک کو آگے لے جانے کا لئے درست سمت کا تعین نہ کر سکی اسی طرح اقتدار کے خاتمے کے بعد بھی تاحال عوام کو یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ ان کی حکومت کے خاتمے کی وجہ کیا بنی ۔عمران خان پاکستان میں رجیم چینج کو بیرونی سازش (امریکی سازش ) قراردیتے نہیں تھکتے جبکہ ان کے وزراء برملاء اس کا اظہار کر رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے خراب تعلقات ان کی حکومت کے خاتمے کی وہ بنے ہیں۔
نہ صرف سابق وفاقی وزراء شیخ رشید احمد اور فواد چودھری برملاء اس کا اعتراف کر چکے ہیں اسٹیبلشمنٹ سے خراب تعلقات ان کی حکومت کے خاتمے کی اصل وجہ ہیں بلکہ ان کے اتحادی پرویز الہٰی کے نزدیک بھی اصل وجہ الٹے سیدھے فیصلوں سے اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کرنا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی نہ پہلے کسی بیانئیے ہر ٹھہری ہے اور نہ اب پی ٹی آئی کے بڑے ایک پیج پر ہیں۔
اصل وجہ تو یہ ہے کہ پونے چار سال حکومت کرنے کے بعد وہ پی ٹی آئی حکومت تمام محاذوں پر بری طرح ناکام رہی اور اب بھی انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کیا چورن لے کر عوام کے پاس جائیں۔
عمران خان کی طرح ان کے مشیروں کے پاس کوئی ویژن ہے اور نہ نظریہ ہرایک اپنی اپنی سمت چل رہا ہے ۔
اس وقت پوری جماعت کی توجہ صرف اس بات پر ہے کہ کسی طرح الیکشن کے انعقاد کا اعلان ہو جائے تاکہ حکومت کی توجہ ان کے احتساب سے ہٹ کر انتخابات کی طرف ہو جائے اس طرح پی ٹی آئی کو چند ماہ کی مہلت مل جائے گی اور بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔