ٹاپ سٹی کی زمینوں پر قبضہ کی کوشش ناکام،قبضہ گروپ کے خلاف مقدمہ درج

پنجاب ریونیو اتھارٹی کے مطابق ٹاپ سٹی سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا ادارہ ،تحفظ فراہم کرنے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شکرگزار ہیں قمر معیز خان


اسلام آباد:راولپنڈی اسلام آباد کی معروف ہائوسنگ سوسائٹی ٹاپ سٹی پر قبضہ گروپ کی کوشش انتظامیہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے ناکام بنادی۔ٹاپ سٹی انتظامیہ کے مطابق بدنام قبضہ گروپ ناصر بگو نے زمین پر قبضہ کی کوشش کی جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے ناکام بنادیا گیاناصر بگو کی اپنی گاڑیاں توڑ کر ٹاپ سٹی کے خلاف مقدمہ بنانے کی کوشش بھی ناکام ہو گئی اور قبضہ گروپ موقع سے فرار ہوگیا۔
سستے داموں اسٹامپ پیپر پر ٹاپ سٹی کی ملکیتی زمین حاصل کرنے والے درجنوں لوگ بھی پریشان ہوگئے جنہیں چوہدری آف بجنیال ناصر بنگو نے اسٹام پر زمینیں بیچی تھیں۔خود کو متاثرین ظاہر کرنے والے بھی پس میں پھٹ پڑے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنا کوئی ملکیتی ثبوت بھی نہ دے پائے۔
ٹاپ سٹی کے مالک قمر معیز خان نے بتایا کہ انہوں نے قبضہ گروپ کے خلاف قانون ہاتھ میں نہ لیا اور قانون کا دروازہ کھٹکھٹایا جس میں انہیں کامیابی ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ٹاپ سٹی کو بہتر سے بہتر بنانا
میرا عزم ہے اور آگے بڑھنے کی لگن رکھتے ہیں ٹاپ سٹی کو راولپنڈی نہیں بلکہ پاکستان کی بہترین ہاسنگ سوسائٹی بنایا ہے جس میں رہائشوں کے لئے بہترین سہولیات موجود ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ٹاپ سٹی کی جانب سے واضع ا علان ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی ملکیت ظاہر کرے زمین دے ہم لینے کو تیار ہیں۔ دوسری جانب چوکی انچارج ڈھوک حمیدہ تھانہ نصیر آباد کو ہائی کورٹ کی جانب سے دائر ایک مقدمے میں غفلت برتنے کی وجہ سے معطل کردیا گیا جس کا حالیہ وقوع سے کوئی تعلق نہیں جبکہ ٹاپ سٹی کی مخالف پارٹی یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے اس مقدمے پر چوکی انچارج کو معطل کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب ریونیو بورڈ کے مطابق ٹاپ سٹی سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا ادارہ ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنا کردار ادا کرکے پاکستان میں کاروباری شخصیات کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے اور قبضہ گروپوں کے خلاف سخت کاروائی کرنی چاہیے تاکہ وہ کاروباری شخصیات کو بلیک میل نہ کر سکیں ان کی پگڑیاں نہ اچھال سکیں۔انہوں نے کہا مذکورہ واقعہ جس میں قبضہ کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا جس میں زیر استعمال موبائل فون کی لوکیشن مختلف ظاہر کی گئی تاکہ یہ بتایا جا سکے کہ موقع پر چودھری آف بجنیال اور باقی لوگ موجود نہ تھے۔