بدلا ہوا عمران

پے درپے ناکامیوں کے بعد لگتا ہے وہ جلد پرانی تنخواہ پر کام کرنے کے لئے راضی ہو جائیں گے
پارلیمانی طرز حکومت میں قائد حزب اختلاف کی بڑی اہمیت ہوتی ہے وہ آنے والا وزیراعظم ہوتا ہے
شہبازشریف اگر قائد حزب اختلاف سے قائد ایوان تک کا سفر کر سکتے ہیں تو عمران کیوں نہیں
سب ناکامیوں کے باوجود ان کے ذہن میں بٹھایا گیا یہ تصور کسی صورت نکلنے کو تیار نہیں کہ کوئی اور بھی پاکستان کو بچا سکتا ہے
محمدر ضوان ملک


پشاور میں ہونے والی اپنی آخری پریس کانفرنس میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ایک بدلے ہوئے عمران خان کے روپ میں نظر آئے ،پہلی بار انہوں نے سیاسی لچک دکھاتے ہوئے حکومت سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی گو یہ آمادگی مشروط ہی تھی لیکن کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے کیونکہ اس سے قبل وہ کسی صورت حکومت کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہ تھے نہ اس وقت جب موجودہ حکومت اپوزیشن میں تھی اور نہ بعد میں جب اپوزیشن جماعتیں حکومت میں آئیں ۔
پے درپے ناکامیوں کے بعد لگتا ہے وہ جلد پرانی تنخواہ پر کام کرنے کے لئے راضی ہو جائیں گے ۔پارلیمانی طرز حکومت میں قائد حزب اختلاف کی بڑی اہمیت ہوتی ہے وہ آنے والا وزیراعظم ہوتا ہے
شہبازشریف اگر قائد حزب اختلاف سے قائد ایوان تک کا سفر کر سکتے ہیں تو عمران کیوں نہیں وہ تو ویسے ہی آخری گیند تک لڑنے کا جذبہ رکھتے ہیں
ان کی اس تبدیلی کی ویسے تو کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جس حقیقی آزادی مارچ کی وہ کئی ماہ سے گردان کر رہے تھے اور جس کے لئے انہوں نے ملک بھر میں بڑے بڑے جلسے کر کے عوام کو موبلائز بھی کیا تھا وہ عین وقت پر بری طرح ناکام ہو گیا اور ان پر آشکار ہو اماضی میں 126 دن تک کامیاب دھرنا دینے کا جو کریڈٹ وہ لیتے رہے ہیں وہ اب صورت حال تبدیل ہو چکی ہے پہلے وہ آزمائے ہونے نہ تھے جبکہ اب آزمائے جاچکے ہیں۔
سپریم کورٹ کی جانب سے سہولت ملنے کے باوجود وہ اسلام آباد میں پاور شو نہ دکھا سکے اور یہ کہ کر جان چھڑا لی کہ وہ تیاری نہ کر سکے تھے اب دوبارہ پوری تیاری کے ساتھ اسلام آباد آئیں گے ۔ لیکن کب اس حوالے سے تاریخ خاموش ہے انہوں نے حکومت کو چھ دن کی مہلت تو دے دی لیکن وہ خود کب پوری تیاری کے بعد اسلام آباد پر چڑھائی کریں گے اس حوالے سے کوئی حتمی تاریخ دینے سے بوجہ گریز کیا۔
اور حال ہی میں ملک ریاض اور سابق صدر آصف علی زرداری کی مبینہ آڈیو لیک ہونے کے بعد تو ان کی ساکھ کو شدید دھچکا لگا ہے گو پی ٹی آئی کے شہباز گل نے اس کی تردید کی ہے لیکن ان کے ورکروں کو یہ جان کر شدید صدمہ پہنچا ہے کہ ماضی قریب میں جب وہ چیخ چیخ کر کہ رہے تھے کہ کسی کو این آر او نہیں ملے گا درحقیقت وہ اندرون خانہ اس وقت خود این آر او کے حصول کے لئے اپنے مخالفین کی منتیں کر رہے تھے۔
ان کے ستارے ابھی گردش میں ہیں ۔
جس طرح انہوں نے پشاور پریس کانفرنس میں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ سے مدد کی اس سے لگتا ہے کہ انہیں احساس ہو گیا ہے کہ وہ خود کتنے پانی میں ہیں
اب سب ناکامیوں کے باوجود ان کے ذہن میں بٹھایا گیا یہ تصور کسی صورت نکلنے کو تیار نہیں کہ کوئی اور بھی پاکستان کو بچا سکتا ہے ۔اس پریس کانفرنس میں انہوں نے ماضی کے دوستوں سے گلہ بھی کیا کہ پاکستان کو بچانا صر ف میری ہی ذمہ داری نہیں انہیں بھی میدان میں آنا ہوگا۔
عمران خان کے ان بدلے بیانات سے حکومتی لوگ خوب محظوظ ہو رہے ہیں جب وہ پشاور پریس کانفرنس میں بار بار انتخابات کی ڈیٹ مانگ رہے تھے تو وزیر اطلاعات مریم اورنگ نے انہیں باور کرایا کہ عام انتخابات اگست 2023 ء میں ہوں گے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ امید ہے کہ وہ اس تاریخ کو یاد رکھیں گے اور پھر ایسا احمقانہ سوال نہیں کریں گے۔
تاہم پشاور پریس کانفرنس میں ان کا بدلا ہوا انداز میڈیا نہ بھی محسوس کیا انہوں نے توجہ سے صحافیوں کے سوالات سنے اور گرج برس سے گریز کیا بلکہ گزشتہ پریس کانفرنس کے تلخ واقعہ کو بھی کور کرنے کی کوشش کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔