کچھ عرصے سے افواج اور عسکری قیادت کے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے،کسی کو اداروں شخصیات کو نشانہ بنانے کا حق نہیں ،جنرل (ر) پرویز مشرف کی واپسی کا بھی عندیہ
پی ٹی آئی رہنماء پاک فوج کے ترجمان کے بیان کے بعد وضاحتیں دیتے رہے ،اسد عمر نے بیرونی سازش کے حوالے سے پاک فوج کے بیان کو ان کی ذاتی رائے قراردیا
طویل عرصے بعد سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی وطن واپسی کی راہ ہموار فوجی قیادت ان کی واپسی کے حق میں نوازشریف نے بھی حکومت کو سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کر دی
پاک چین تعلقات خطے میں امن کے لیے اہم ،(سی پیک) منصوبوں کی سیکیورٹی میں کوئی کمی نہیں آنے دی،میجر جنرل بابر افتخار کی نجی ٹی وی سے گفتگو
محمدرضوان ملک

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بیرونی سازش کے بیانئے کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) میجر جنرل بابر افتخار نے گزشتہ روز پھر واضح کیا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں عسکری قیادت موجود تھی، شرکا کو بتایا گیا کہ نہ کسی قسم کی سازش ہوئی نہ ایسے کوئی شواہد ہیں۔نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ شرکا کو مفصل انداز میں بتایا گیا کہ کسی سازش کا کوئی ثبوت نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے کچھ عرصے سے افواج اور عسکری قیادت کے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔
پی ٹی آئی رہنماء پاک فوج کے ترجمان کے بیان کے بعد وضاحتیں دیتے رہے پارٹی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے ہم ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بیرونی سازش کے حوالے سے پاک فوج کے بیان کو ان کی ذاتی رائے قراردیا۔انہوں نے کہا کہ یہ روئیہ تبدیل ہونا چاہیے کہ صرف ٹیبل کے ایک طرف بیٹھے لوگ ہی پاکستان سے وفادار اور مخلص ہیں۔
میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ 2020 سے پاکستانی فوج نے اپنے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا، فوج نے سو ارب روپے بجٹ کم لیا ہے، یوٹیلیٹی بلز کی مد میں اخراجات محدود کیے ہیں۔
پاک چین تعلقات خطے میں امن کے لیے اہم ہیں
آرمی چیف کے دورہ چین پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ دورہ بہت اہم تھا، آرمی چیف نے چینی صدر سے بھی ملاقات کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان چین تعلقات بہت اسٹریٹجک نوعیت کے ہیں، پاک چین تعلقات خطے میں امن کے لیے اہم ہیں۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبوں کی سیکیورٹی میں کوئی کمی نہیں آنے دی، سی پیک کی سیکیورٹی خصوصی طور پر پاک فوج کو دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبوں کی سیکیورٹی پر 24 گھنٹے کام کیا جارہا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ چین نے پاکستان کی دفاعی قوت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
پاک فوج نے 100 ارب روپے کم بجٹ لیا ہے
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ جب بھی ہر سال بجٹ پیش ہوتا ہے تو دفاعی بجٹ پر بحث ہوتی ہے، دفاعی بجٹ تھریٹ پرسیپشن، چیلنجز، تعیناتی کی نوعیت، وسائل کو دیکھتے ہوئے رکھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا بڑھتا ہوا دفاعی بجٹ اپنے سامنے رکھ لیں۔ 2020 سے پاک فوج نے اپنے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا، مہنگائی کی شرح سے دیکھیں تو دفاعی بجٹ کم کیا گیا۔
میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ مسلح افواج کا بجٹ جی ڈی پی کی شرح کے لحاظ سے مسلسل نیچے جا رہا ہے، پاک فوج نے 100 ارب روپے کم بجٹ لیا ہے۔ ہم نے یوٹیلیٹی بلز کی مد میں اخراجات کو محدود کیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کی بچت کے لیے غیرضروری نقل و حرکت کم کردی گئی ہے جبکہ کانفرنسز آن لائن کردی گئی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پچھلے سال کورونا کی مد میں ملنے والے 6 ارب حکومت پاکستان کو واپس کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ فوجی فانڈیشن سے سالانہ 20 لاکھ سے زائد مریض صحتیاب ہو رہے ہیں۔میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے کچھ عرصے سے افواج اور عسکری قیادت کیخلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔
فیٹف کے حالیہ سیشن پر تبصرے سے گریز
ترجمان پاک فوج نے انٹرویو کے دوران کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے حالیہ سیشن پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔ بھارت نے لابنگ کی کہ پاکستان کو بلیک لسٹ کیا جائے۔

انہوں نے سابق آرمی چیف اور صدر پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف کی واپسی کا بھی عندیہ دیا ۔ انہوں نے بتایا کہ جنرل پرویز مشرف کی صحت بہت خراب ہے، ایسے میں ادارے کی قیادت کا موقف ہے کہ انھیں پاکستان واپس لایا جائے مگر یہ فیصلہ ان کے خاندان اور ڈاکٹروں نے کرنا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کی طبیعت بہت خراب ہے، فوجی قیادت کا موقف ہے کہ انہیں پاکستان واپس آنا چاہیے تاہم ان کی واپسی حتمی فیصلہ ان کی فیملی کرے گی۔
نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کو واپس لانے کیلئے ان کے خاندان سے رابطہ کیا گیا، وہ ڈاکٹرز سے مشاورت کے بعد آگاہ کریں گے اور جواب کے بعد ان کی واپسی کے انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔
دسری طرف پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نوازشریف نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ میری پرویز مشرف سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔
ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ نہیں چاہتا کہ اپنے پیاروں کے بارے میں جو صدمے مجھے سہنا پڑے، وہ کسی اور کو بھی سہنا پڑیں۔
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ مشرف کی صحت کیلئے اللہ تعالی سے دعاگو ہوں۔ن لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا کہ پرویز مشرف واپس آنا چاہیں تو حکومت سہولت فراہم کرے۔




