آپ نے ایسا کیا کیا کہ امریکہ آپ کا مخالف ہوا، پاکستانی بچوں کے امریکہ مخالف جذبات سے کھیلنا عمران خان کی جانب سے زیادتی ہے
امریکہ میں یہودی لابی کے بعد دوسری بڑی لابی بھارتی ہے،جوبائیڈن کا تقریر نویس اور وائٹ ہائوس کا میڈیا ڈائریکٹر تک بھارتی ہیں

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ )امر یکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایڈوائزر ساجد تارڑ نے کہا ہے کہ سیاست کو سیاست ہی رہنا چاہیے،امریکہ کی پاکستانی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں،عمران خان نے سیاسی پارٹی کو مذہبی جماعت بنادیا ، نئے پاکستان کا نعرہ تبدیل کیا،امریکہ کو بھی گھسیٹ کر پاکستان کی سیاست میں لے آئے،عمران خان ڈرامہ بازی چھوڑ دیں،امریکہ کے ساتھ اتنا ہی مسئلہ ہے تو پہلے اپنے چیف آف سٹاف سے کہیں کہ وہ اپنی فیملی کو شکاگو سے پاکستان واپس بلائیں، امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کو امریکی سیاست میں حصہ لینا ہوگا،امریکہ میں گوگل سمیت ہر بڑی کمپنی میں بھارتی موجود ہیں، امریکہ صدر جوبائیڈن کا تقریر نویس اور وائٹ ہائوس کا میڈیا ڈائریکٹر تک بھارتی ہیں،امریکہ میں یہودی لابی کے بعد دوسری بڑی لابی بھارتی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کو نوازشریف سے ٹیلی فون پر بات کرنے کیلئے میںنے قائل کیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے روزنامہ ممتاز کو خصوصی انٹرویو میں کیا۔
ساجد تارڑ نے کہا کہ پاکستان میں مذہب کا احترام کیا جاتا ہے، سیاست کو سیاست رہنا چاہئے،ڈونلڈ ٹرمپ سے تعلق انتخابی ہار جیت کا نہیں ذاتی رہا، میں واحد پاکستانی ہوں جس کا بائیو ڈیٹا ڈونلڈ ٹرمپ کی آفیشل ویب سائٹ پر تھا، پاکستان میری مدر لینڈ جبکہ امریکہ میری ہوم لینڈ ہے، امریکہ میں مقیم پاکستانی وہاں کی سیاست میں دلچسپی لینے کی بجائے اپنا سیاسی وقت پی ٹی آئی اور ن لیگ کو دیتے ہیں جس کی وجہ سے امریکہ میں یہودی لابی کے بعد دوسری بڑی لابی بھارتی لابی ہے، امریکہ میں کلیدی عہدوں اور سیاست میں نمایاں یہ بھارتی لابی پاکستان اور پاکستانیون کیخلاف انتہائی نقصان دہ پروپیگنڈا کرتی ہے، امریکہ صدر جوبائیڈن کا تقریر نویس اور وائٹ ہائوس کا میڈیا ڈائریکٹر تک بھارتی ہیں، گوگل اور ہر بڑی امریکہ کمپنی میں بھارتی کلیدی عہدوں پر فائز ہیں، پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ امریکی سیاست میں حصہ لیں، اپنے بچوں کو وہاں لا سکولوں میں داخل کروائیں تاکہ پاکستان کی آواز بھی توانا ہو سکے۔
ساجد تارڑ نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد مودی سے بات کی لیکن وزیراعظم نواز شریف کی فون کال نہیں موصول کی، اس وقت امریکہ میں پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی کے کہنے پر صدر ٹرمپ کو نواز شریف سے ٹیلی فونک بات چیت کرنے کیلئے قائل کیا تھااور یوں نواز شریف اور ٹرمپ کا رابطہ بحال ہوا۔
ساجد تارڑ نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی سیاسی پارٹی کو مذہبی پارٹی بنا کر پاکستان کے ساتھ زیادتی کی، نئے پاکستان کا نعرہ تبدیل کرکے ریاست مدینہ کا نعرہ لگا دیا، اس کے بعد امربالمعروف کا نعرہ لگا کر حق و باطل کی جنگ کو سیاست میں لے آئے اور پھر امریکہ کو بھی گھسیٹ کر پاکستان کی سیاست میں لے آئے، آئی ایس پی آر نے بھی گزشتہ روز واضح کیا کہ امریکہ کا پاکستانی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ساری زندگی امریکہ میں گزار کر یہ بات نہایت وثوق سے کہتا ہوں کہ امریکہ نہ تو سکت رکھتا ہے اور نہ ہی اس کی ایسی کوئی دلچسپی ہے، میرا سوال ہے کہ عمران خان نے ساڑھے تین سال میں آخر ایسا کیا کیا کہ ان کی حکومت تبدیل کی جاتی، پاکستانی بچوں کے امریکہ مخالف جذبات سے کھیلنا عمران خان کی جانب سے زیادتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سے نفرتیں، کدورتیں ختم کرنا ہوں گی اور پاکستان کو آئینی اور سیاسی بحران سے نکالنا ہوگا، ایک روز قبل سب سے بڑے صوبے پنجاب اسمبلی کے دو اجلاس ہوئے، پاکستانی میں موجود امریکہ اور برطانوی سفیر جب یہ دیکھ رہے ہوں تو وہ کیا رائے قائم کریں گے، ایسی صورتحال میں جب پاکستان آئی ایم ایف سے مذاکرات کرے گا تو کیا آئی ایم ایف نہیں جانتا کہ ہمارے اندرونی حالات کیا ہیں، ذمہ دار ادارے تمام سیاستدانوں کو ایک میز پر بیٹھا کر تلخی، آئینی اور سیاسی بحران کا حل نکالیں، آئینی اور سیاسی بحران کا حل نکلے گا تو پاکستان میں امن قائم ہوگا اور غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی، عمران خان امریکہ مخالف ڈرامہ بازی چھوڑ کر پاکستان کی عوام کے مسائل پر توجہ دیں، عمران خان کو اگر امریکہ کے ساتھ اتنا ہی مسئلہ ہے تو پہلے اپنے چیف آف سٹاف سے کہیں کہ وہ اپنی فیملی کو شکاگو سے پاکستان واپس بلائیں۔
بشکریہ :روزمامہ ممتاز


