
رفعت عباسی سئنیر نائب صدر پی ایم ایل-این ڈسٹرکٹ راولپنڈی
عمران خان صاحب لیڈر آف اپوزیشن کا اہم کردار ادا کرنے کے بجائے 130 کے لگ بھگ اراکینِ اسمبلی سے خودساختہ استعفےٰ دلوا کر بیٹھ گئے ہیں سپیکر قومی اسمبلی نے ان اراکینِ اسمبلی کے استعفے قبول کرنے سے پہلے 6 سے 10 جون کو تصدقی کے لئے انہیں اپنے چیمبر میں طلب کیامگر اراکین نے سپیکر سے ملنے اور استعفوں کی تصدیق سے انکار کردیا اس کے ساتھ ساتھ عمران خان مثلا موجودہ حکومت کو غیر آئینی حکومت قرار دے رہیں ہے اور موجودہ حکومت کے خلاف علم ِ بغاوت بلند کیا ہوا ہے۔
ان حالات میں سپیکر قومی اسمبلی آئین کے آرٹیکل 64 کے تحت استعفی قبول کرنے میں لیت و لعل کا مظاہرہ کیو کر رہے ہیں ؟ بادی النظر میں سپیکر آئین سے انحراف کررہے ہے اور آئین پے عمل درآمد نہ کر کے آرٹیکل 6 کے تحت ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے آصف علی زرداری اپنی اتحادی جماعتوں سے مشاورت کرنے کے بعد تحریکِ انصاف کے اراکین کا استعفی منظور کرکے عمران خان کو بند گلی میں کھڑا کرسکتے ہیں۔
تحریکِ انصاف کے اراکین کے مستعفی ہونے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان ان حلقوں میں ضمنی انتخابات کیلئے جب شیڈول جاری کرے گا تو خان صاحب سیاسی اور پارلیمانی طور پر تنہا رہ جائیں گے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ کسی بھی وقت سنا سکتا ہے جس سے ملک میں سیاسی بحران پیدا ہو سکتا ہے ۔
خان صاحب نے الیکشن کمیشن پر جو تنقیدی حملے شروع کر رکھے ہے اس سے الیکشن کمیشن کسی دبا ئومیں نہیں آئے گا اور فیصلہ 8 سال کے طویل مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق ہی آئے گا اب اگر ممنوعہ فنڈنگ ضبط ہوجاتی ہے تو تحریکِ انصاف کے خلاف آرٹیکل 17 کے تحت کاروائی کیلیے راستے کھل جائے گے۔
عمران خان محبِ وطن سیاستدان ہیں مگر ان کے ارد گرد جو سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور بلاگرز کھڑے ہیں ان کے اپنے ذاتی مفادات ہیں وہ عمران خان صاحب کی مقبولیت کا سہارا لیکر ان کی طرف سے ملک کے مفاد کے برخلاف مہم چلارہیے رہیں عمران خان ہر تقریر میں دھمکی دے رہے ہیں کہ ان کو حراساں کیا جا رہا ہے دیوار سے لگایا گیا تو چپ نہیں رہیں گے سب راز کھول کر بتادیں گے خان صاحب کو ادراک ہونا چاہئے کہ اگر انہوں نے ملکی راز افشاں کیے تو یہ اس حلف کی خلاف ورزی ہوگی جو انہوں نے آئین کے آرٹیکل 65 کے تحت اٹھایا ہوا ہے اور ان کو تاحیات نا اہل قرار دیا جاسکتا ہے اور آئین کے آرٹیکل 65 کی خلاف ورزی کے نتائج کا سامنا بھی کرنا پڑے گا ۔
یاد رہے جب 1968 اور 1969 کے دوران ذوالفقار علی بھٹو نے تاشقند کا راز افشاں کرنے کی دھمکی دی تھی تو اس وقت کے سیکٹری داخلہ اے بی اعوان اور آئی بی کے ڈائریکٹر این اے رضوی نے مسٹر ذوالفقار علی بھٹوں سے راولپنڈی میں ملاقات کرکے دھمکی دی تھی کہ اگر تاشقند کے راز کی آڑ میں ایسا کوئی راز افشاں کردیا تو ان کے خلاف ڈیفینس رولز آف پاکستان کے تحت کاروائی کی جائے گی اس دھمکی کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے تاشقند کے راز والی بات ہمیشہ کیلیے ختم کردی عمران خان تاریخ کے اوراق کا مطالعہ کریں مملکت کے ساتھ کھیل کھیلنا آسان نہیں ہوتا عمران ریاض اینکر ہیں انہوں نے عمران خان کی سپورٹ کی آڑ میں اپنے یو ٹیوب چینل کی مارکیٹ ببڑائی ہیں اور ان کی حمایت کو کمرشل زاوئیے سے دیکھا جائے گا۔



