
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کا رویہ قابل مذمت قرار دیتے ہوئے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔
اسلام آباد زرداری ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ لاڑکانہ کے ایم این اے کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا، تین حکومتی وزرا کو بولنے کا پورا موقع دیا گیا، جبکہ دوسرا دن ہے قومی اسمبلی میں مجھے بولنے نہیں دیا گیا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ نئے پاکستان میں کسی کو بولنے کی اجازت نہیں ہے، حکومت اظہار رائے پر بھی پابندی لگا رہی ہے، یہاں تک کہ عدلیہ پر بھی سازش کے تحت حملہ کیا گیا ہے۔ ریفرنس کے بارے میں حکومت کو بتانا چاہیئے تھا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ بطور احتجاج آج آصف زرداری نے گرفتاری دی ہے، لیکن یہ وہی سلسلہ ہے جو ہم نے پہلے بھی دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں، موت سے اس بچے کو کیسے ڈرائیں گے جس کی والدہ کو شہید کیا گیا اور کیسے اس بچے کو ڈرائیں گے جس کا باپ 11 سال جیل میں رہا ہو۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ مارتے بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے، حکومت ہمارے جمہوری حقوق پر حملے کر رہی ہے لیکن اس جمہوریت کیلئے جدوجہد میرا فرض ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اسپیکر سندھ اسمبلی کے گھر پر بھی حملہ کیا گیا، نیب اور باقی ادارے ارکان اسمبلی کے پیچھے پڑے ہیں۔ کتنے بھی سنگین الزام ہوں فیئر ٹرائل سب کا حق ہے۔
قبل ازیں انہیں قومی اسمبلی میں کوشش کے باوجود خطاب نہیں کرنا دیا گیا تھا




