
اسلام آباد:چین میں حکومت کی جانب سے ایسی کاریں متعارف کرائی گئی ہیں جو بغیر ڈرائیو ر کے چلائی جاسکتی ہیں۔ چینی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بغیر ڈرائیور کی نگرانی کرنے والی گشتی گاڑیاں سنکیانگ بھر میں تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔ کرامے ڈیلی کی 30 مارچ کی رپورٹ کے مطابق لٹل پٹرول کے نام سے موسوم یہ کاریں یہاں کی مشہور کمپنی نے تیار کی ہیں۔
چین نے سنکیانگ (Xinjiang) کے ایغور خود مختار علاقے میں نگرانی کا ایک نیا طریقہ متعارف کرایا ہے۔ چین نے بغیر ڈرائیور کی 20 ایسی الیکٹرک کاریں تعینات کی ہے، جو بغیر ڈرائیور کے چلائی جاسکتی ہیں۔
چین نے خطے کے شمالی حصے میں تیل کی دولت سے مالا مال شہر کرامے (Karamay) میں مقامی طور پر تیار کردہ اپنی پہلی ہائی ٹیک پٹرول کار کی جانچ شروع کی ہے۔ شہر کی چینی کمیونسٹ پارٹی کمیٹی کے سکریٹری ژا وینچوان نے کہا ہے کہ کرامے کو اسمارٹ پٹرول گاڑیوں کے لیے پروڈکشن اور ٹیسٹنگ بیس کے طور پر چنا گیا تھا کیونکہ یہ خطے کا سب سے بڑا ڈیجیٹل شہر ہے۔
بغیر ڈرائیور کی نگرانی کرنے والی گشتی گاڑیاں سنکیانگ بھر میں تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔ کرامے ڈیلی کی 30 مارچ کی رپورٹ کے مطابق لٹل پٹرول کے نام سے موسوم یہ کاریں یہاں کی مشہور کمپنی Zhongke Tianji (Sinjiang) Aerospace Information Co. Ltd نے تیار کی ہیں۔
سنکیانگ میں چین کی پالیسیوں کے ماہرین نے سیلف ڈرائیونگ سرویلنس کاروں کے متعارف ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔ ایک امریکی صحافی جیفری کین نے کہا کہ یہ اس اقدام پولیس اسٹیٹ کے قیام کا اگلا قدم ہے، اس سے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ پولیس کے پاس مکمل طاقت ہو۔ جیفری کین نے انگریزی میں The Perfect Police State: An Undercover Odyssey into Chinas Terrifying Surveillance Dystopia of the Future نامی کتاب بھی لکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ چین کی جانب سے نگرانی کی جانے والی ٹیکنالوجی کا استعمال کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن خود کار پولیس گاڑیوں کا استعمال مقامی باشندوں کے لیے ایک اور وارننگ ہے۔
کین نے آر ایف اے کو بتایا کہ چینی حکومت یہ دکھاوا کرنا پسند کرتی ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کی ماہر ہے، اس کے پاس تمام بہترین ٹیکنالوجی موجود ہے، لیکن وہ جو کچھ کر رہی ہے وہ لوگوں کو ڈرا رہی ہے۔ کین نے آر ایف اے کو مزید بتایا کہ ٹکنالوجی اس وقت جدید ہوتی ہے جب سامان کافی بنیادی اور ابتدائی ہو۔


