نوازشریف ہسپتال میں ڈاکٹرز کی قلت،نجی یونیورسٹی کے ڈاکٹرز کو بھی ہسپتال چھوڑنے کا

لاہور…نورالعارفین

نوازشریف ہسپتال میں ڈاکٹرز کی قلت، محکمہ سوشل سکیورٹی کی انوکھی حکمت عملی.

محکمہ سوشل سیکیورٹی کی انوکھی حکمت عملی، ڈاکٹرز کی قلت کا شکار نواز شریف سوشل سکیورٹی ہسپتال میں متبادل انتظام کئے بغیر نجی یونیورسٹی کے ڈاکٹرز کو بھی ہسپتال چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا۔ محکمہ سوشل سکیورٹی کے زیر انتظام نواز شریف سوشل سیکیورٹی ہسپتال اور نجی یونیورسٹی کے مابین 2005 میں دس سال کا معاہدہ ہوا تھا۔ جس کے تحت یونیورسٹی کے 40 کنسلٹنٹس ہسپتال میں کام کر رہے تھے۔ دونوں فریقین کے مابین معاہدہ 2015 میں ختم ہو گیا تھا۔ تاہم ہسپتال میں ڈاکٹرز کی کمی کے باعث دو سال سے یونیورسٹی کے پروفیسرز بغیر معاہدے کے ہی ڈیوٹی دے رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق سوشل سیکیورٹی انتظامیہ نے ڈاکٹرز کا متبادل انتظام کئے بغیر ہی یونیورسٹی ڈاکٹرز کو ہسپتال چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے، جبکہ ہسپتال میں پہلے ہی 20 میڈیکل افسران، 2 یوورالوجسٹ، 2 انیستھیزیا کی سیٹیں خالی ہیں۔
اسی طرح ہسپتال میں 34 سٹاف نرسز اور 10 ٹیکنیشنز کی بھی ضرورت ہے، ہسپتال کو پیرا میڈیکل سٹاف کی بھی شدید قلت کا سامنا ہے اور لیب اٹنڈنٹ، ایکسرے، وارڈ کلینر، وارڈ بوائے، ہیلپرز اور فی میل اٹنڈنٹ کی سینکڑوں آسامیاں بھی خالی پڑی ہیں۔ اس حوالے سے ایم ایس نواز شریف سوشل سیکیورٹی ہسپتال ڈاکٹر نعیم بیگ کا کہنا ہے کہ سوشل سیکیورٹی ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے بڈنگ کے ذریعے دوبارہ معاہدہ کیا جائے گا۔