نیوٹرل رہنے کا فیصلہ فرد واحد یا صرف آرمی چیف کا فیصلہ نہیں پورے ادارے کا تھا،اگرآپ کی نظر میں سپہ سالا غدار ہے تو اسے ملازمت میں توسیع کیوں دینا چاہتے تھے
سائفر سے متعلق من گھڑت کہانی سنائی گئی، آئی ایس آئی کو سائفر سے متعلق کسی سازش کے شواہد نہیں ملے، ہم حقائق قوم کے سامنے لانا چاہتے تھے ہر چیز کو غداری اور رجیم چینج آپریشن سے جوڑ دیا گیا
، میڈیا ٹرائل میں اے آر وائی چینل نے جھوٹے، سازشی بیانیے کے فروغ میں کردار ادا کیا،ہمارے دل میں ارشد شریف سے متعلق کوئی نفرت نہیں ہم نے کہا بغیر ثبوت من گھڑت الزامات ادارے پر نہ لگائے جائیں۔
ارشد شریف قتل کے تمام حالات و واقعات میں اے آر وائی کے چیف ایگزیکٹو سلمان اقبال کا ذکر بار بار آتا ہے، انہیں واپس پاکستان لایا جائے اور شامل تفتیش کیا جائے،ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد:ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے انکشاف کیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کیلئے سابقہ حکومت نے آرمی چیف کو غیرمعینہ مدت تک توسیع کا کہا تھا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے کہا کہ میری واضح پالیسی ہے کہ میری تشہیر نہ کی جائے، آج میں اپنی ذات کے لیے نہیں اپنے ادارے کے لیے آیا ہوں۔انہوں نے کہا کہ جھوٹ سے فتنہ و فسادکا خطرہ ہوتو سچ کاچپ رہنا نہیں بنتا، میں اپنے ادارے، جوانوں اور شہدا کا دفاع کرنے کے لیے سچ بولوں گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے شہیدوں کا مذاق بنایا گیا، اس میں دو رائے نہیں کہ کسی کو میر جعفر، میر صادق کہنے کی مذمت کرنی چاہیے، بغیر شواہد کے الزامات کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ نیوٹرل اور جانور کہنا اس لیے نہیں کہ ہم نے کوئی غداری نہیں کی ہے، یہ سب اس لیے کہا جارہا ہے کیونکہ ہم نے غیر قانونی کام سے انکار کیا ہے، غیر قانونی کام سے انکار فرد واحد یا صرف آرمی چیف کا فیصلہ نہیں پورے ادارے کا تھا۔سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ سیاست سے الگ رہنا ہے ۔بہت بحث کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ اپنے آپ کو آئینی کردار تک محدود کر لیااور خود کو سیاست سے الگ کر لیں۔ہمارے دل میں ارشد شریف سے متعلق کوئی نفرت نہیں ہے، ہم نے کہا بغیر ثبوت من گھڑت الزامات ادارے پر نہ لگائے جائیں۔
لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے مزید کہا کہ بالخصوص اس سال مارچ سے ہم پربہت پریشر ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہوا ہے خودکو آئینی کردار تک محدود رکھنا ہے، جنرل باجوہ چاہتے تو اپنے آخری چھ سات مہینے سکون سے گزارسکتے تھے لیکن جنرل باجوہ نے فیصلہ ملک اورادارے کے حق میں کیا، جنرل باجوہ اوران کے بچوں پرغلیظ تنقیدکی گئی۔
ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ آرمی چیف کو ان کی مدت ملازمت میں غیرمعینہ مدت توسیع کی پیشکش کی گئی، آرمی چیف نے مدت ملازمت میں توسیع کی پیشکش کو ٹھکرادیا، یہ ایک بہت پرکشش پیش کش تھی۔
انہوں نے کہا کہ اگرآپ کا سپہ سالارغدار ہے تو ماضی قریب میں ان کی تعریفوں کے پل کیوں باندھتے تھے، اگرآپ کی نظر میں سپہ سالا غدار ہے تو اس کی ملازمت میں توسیع کیوں دینا چاہتے تھے، اگر آپ کا سپہ سالار غدار ہے تو آج بھی چھپ کر اس سے کیوں ملتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس آئی کا کہنا تھا کہ اس وقت جو حکومت تھی وہ توسیع کو قانونی طور پر دینے کی مجاز تھی انہوں نے یہ پیشکش دی، اس وقت یہ پیشکش اس لیے کی گئی کہ تحریک عدم اعتماد اپنے عروج پرر تھی۔لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے کہا کہ ہمارا محاسبہ ضرورکریں لیکن پیمانہ رکھیں کہ میں ملک کے لیے درست کام کررہاہوں یا نہیں۔
اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے ہم سے غلطی ہو سکتی ہے لیکن غدار اور سازشی نہیں ہو سکتے۔
بابر افتخار کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کی وفات سے جڑے حقائق تک پہنچنا ضروری ہے کیونکہ اس حوالے سے اداروں، لیڈرشپ اور آرمی چیف پر بے بنیاد الزام تراشی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ارشد شریف ایک نڈر صحافی تھے اور ایک شہید فوجی کے بھائی تھی، ارشد شریف کی موت انتہائی اندوہناک واقعہ ہے، دیکھنا ہو گا کہ مرحوم ارشد شریف کی موت کے حوالے سے اب تک کیا حقائق سامنے آئے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا دیکھنا ہو گا کہ ارشد شریف کو ملک سے باہر جانے پر کس نے مجبور کیا، ہماری اطلاعات کے مطابق وزیراعلی خیبر پختونخوا کی خاص ہدایت پر 5 اگست کو تھریٹ الرٹ جاری کیا گیا، اس تھریٹ الرٹ کے حوالے سے سکیورٹی اداروں سے سیکورئی معلومات شیئر نہیں کی گئیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تھریٹ الرٹ مخصوص سوچ کے تحت جاری کیا گیا، کے پی حکومت نے ارشد شریف کو باچا خان ائیرپورٹ تک مکمل پروٹوکول دیا۔
ان کا کہنا تھا تھریٹ الرٹ سے لگتاہے ارشد شریف کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرنا تھا، سلمان اقبال نے شہباز گل کی گرفتاری کے بعد عماد یوسف کو کہا ارشد شریف کو باہر بھیج دیا جائے، ارشد شریف کی موت کی اعلی سطح پر تحقیقات ہونی چاہیے، ان تمام حالات و واقعات میں اے آر وائی کے چیف ایگزیکٹو سلمان اقبال کا ذکر بار بار آتا ہے، انہیں واپس پاکستان لایا جائے اور شامل تفتیش کیا جائے، ہم سب کو انکوائری کمیشن کا انتظار کرنا چاہیے۔
لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا اپنے اداروں پر اعتماد رکھیں، ماضی میں ہوئی غلطیوں کو پچھلے 20 سالوں سے اپنے خون سے دھو رہے ہیں، ہم کمزور ہو سکتے ہیں، ہم سے غلطیاں ہو سکتی ہیں مگر ہم سارشی نہیں ہو سکتے کیونکہ ایک بہت مشہور اسکالر نے کہا تھا کہ اگر پاکستان کو توڑنا ہے تو اس کی فوج کو کمزور کرنا ہو گا۔ان کا کہنا تھا ایک متحد قوم ہی چیلنجز کا مقابلہ کر سکتی ہے، ہم بطور ادارہ کبھی اپنی قوم کو مایوس نہیں کریں گے، یہ وقت اتحاد، تنظیم اور نظم و ضبط کا ہے۔
مبینہ امریکی سازش کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا سابق وزیراعظم نے سائفر پر کہا تھا کہ کوئی بڑی بات نہیں لیکن پاکستانی سفیر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، اسد مجید کے حوالے سے من گھڑت خبر بھی چلائی گئی۔انہوں نے بتایا کہ آرمی چیف نے 11 مارچ کو کامرہ میں اس وقت کے وزیراعظم سے سائفر کا خود ذکر کیا اور پھر 27 مارچ کو ایک خط لہرا دیا گیا، ہم نے ہر ممکن کوشش کی سیاستدان خود مسئلہ حل کریں لیکن ایسانہ ہو سکا، سائفر کے معاملے پر کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا گیا؟
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سائفر سے متعلق من گھڑت کہانی سنائی گئی، آئی ایس آئی کو سائفر سے متعلق کسی سازش کے شواہد نہیں ملے، ہم حقائق قوم کے سامنے لانا چاہتے تھے لیکن اس وقت کی حکومت پر چھوڑ دیا، سائفر سے متعلق رجیم چینج آپریشن کا کہا گیا، پاکستانی فوج کو نشانہ بنایاگیا، ہر چیز کو غداری اور رجیم چینج آپریشن سے جوڑ دیا گیا۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا مرحوم ارشد شریف، دیگر صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے بھی سائفر پر بات کی، اس سب کے باوجود ہمارے دل میں ارشد شریف سے متعلق کوئی نفرت نہیں ہے، ہم نے کہا بغیر ثبوت من گھڑت الزامات ادارے پر نہ لگائے جائیں۔

