اسمبلیاں 58 ٹو B ہی توڑ سکتی ہے

ارشد شریف قتل کیس ، بالآخر سپریم کورٹ گونگلوئوں سے مٹی جھاڑنے میدان میں آگئی
سیاستدانوں اور صحافیوں کی کوششیں ناکام باجوہ صاحب کے کاغذ کلئیر ہونے میں نہیں آرہے


اسلام آباد(محمدرضوان ملک) 26 نومبر کو راولپنڈی میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن بوجوہ ابھی تک وہ اس حوالے سے مکمل اختیار ہونے کے باوجود اپنے اس اعلان کو عملی جامہ نہیں پہنا سکے ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان دونوں صوبوں کی اسمبلیوں کی تحلیل کے امکانات معدوم ہوتے جارہے ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی اس حوالے سے مختلف حیلے بہانے تراشتے ہوئے اسمبلی کی تحلیل سے ہچکچا رہے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے اکثر اراکان اسمبلی بھی اسمبلی تحلیل ہونے سے گھبرا رہے ہیں ۔ اس لئے غالب امکان ہے کہ عمران خان پرویز الہٰی کی ہچکچاہٹ اور پی ٹی آئی ارکان کی گھبراہٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے اپنے اس اعلان سے پیچھے ہٹ جائیںگے ۔ بلکہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہ صوبائی اسمبلیوں سے مستعفیٰ ہونے کی بجائے قومی اسمبلی میں واپسی کا بھی فیصلہ کر لیں۔
اسمبلیاں تحلیل کرنے اور نہ کرنے کی اس کشمکش میں آج ہمیں 58/2/B کی شدت سے یاد آرہی ہے جس کے ایک ہی وار سے تمام اسمبلیاں تڑک کر کے ٹوٹ جایا کرتی تھیں اور کوئی شور شرابہ حتیٰ کے آواز تک نہ آتی تھی۔

ارشد شریف کے قتل کے قریبا 43 دن بعد بالآخر سپریم کورٹ تک ارشد شریف کے بیہمانہ قتل کی خبر پہنچ ہی گئی اور اس حوالے سے معزز چیف جسٹس نے انتہائی ایمر جنسی میں سو موٹو ایکشن لیتے ہوئے پانچ رکنی بیچ تشکیل دے دیا ،چھ دسمبر کو بنچ تشکیل دیا اور اسی روز دن بارہ بجے سماعت بھی کر ڈالی ۔لیکن قتل کے 43 دن بعد یہ سو موٹو اصل میں گونگلوئوں سے مٹی جھاڑنے کے ہی مترادف ہے۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف ، تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان، صحافتی تنظیمں، ارشد شریف کی والد ہ اور بیٹی بھی سپریم کورٹ سے درخواستیں کر چکی تھیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کو خط لکھاتھا کہ اس حوالے سے فل کورٹ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان اور صحافتی تنظیموں نے بھی اس حوالے سے عدالت عظمی کو خطوط لکھے
دو نومبر کو ارشد شریف کی والدہ اور یکم دسمبر کو ارشد شریف کی معصوم بیٹی نے بھی معزز عدالت کو خطوط لکھے ۔بلآخر یکم دسمبر کو ارشد شریف کی بیٹی کی طرف سے انصاف کے لئے دی جانے والی دہائی پانچ دن بعد عدالت عظمی پہنچ گئی جیسے ہی یہ آواز چیف جسٹس آف پاکستان تک پہنچی انہوں نے آواز سنتے ہی فورا سوموٹو ایکشن لیا اور اسی دن اپنے چہیتے ججز پر مشتمل پانچ رکنی بنچ تشکیل دے کر سماعت بھی کر ڈالی ۔عدالت نے اس دن کافی گرج برس دکھائی پرچہ بھی درج کرادیا لیکن ورثا ء چھوڑ کر پرچہ ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا۔تاہم عدلیہ کی جانب سے کئی فریادوں کے بعد اتنی تاخیر سے نوٹس لینے اور پھر ایس ایچ او کی مدعیت میں پرچہ درج ہونے سے لگتا ہے کہ عدالت عظمی اتنی تاخیر کے بعد گونگلوئوں سے مٹی جھاڑنے ہی میدان میں آئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کی جانب سے سابق چیف آ ف آرمی سٹاف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ پر ڈبل گیم کرنے اور ان کی حکومت کو ٹوٹنے سے نہ بچانے کے الزامات سامنے آنے کے بعد کئی ایک سیاستدان صحافی اور زندگی سے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے لگاتار کوششوں کے باوجود ابھی تک جنرل باجوہ کے کاغذ کلئیر نہیں کراپارہے ہیں تاہم ان کی کوششیں جاری ہیں دیکھیں وہ کب اور کیسے کامیاب ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔