مقتول ایک 37 سالہ شخص ہے جو افیون کی لت میں مبتلا تھا اور امریکی جوڑے مائیکل برک اور سمانتھا پیری کے ساتھ ہی رہتا تھا
ایک تیسرے شخص نے بندوق کی نوک پر ہمیں اس کام کے لئے مجبور کیا، میاں بیوں کا موقف ،خود کو معصوم قراردینے کیلئے درخواست عدالت میں دائر کر دی
واشنگٹن:امریکی ریاست میساچوسٹس میں قتل کی ایک ہولناک واردات کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں ملزمان نے ایک شخص کو سفاکانہ طریقے سے قتل کے بعد لاش کو گھر کے تہہ خانے میں موجود فریزر میں رکھ دیا۔ پولیس نے گھر میں موجود میاں بیوی پر اس شخص کے قتل کا الزام عائد کیا ہے کیونکہ ان کے گھر کے تہہ خانے سے اس لاش برآمد ہوئی ہے جسے فریزر میں چھپایا گیا تھا۔
میاں بیوی مائیکل برک اور سمانتھا پیری نامی ملزمان کی جانب سے گرفتاری سے بچنے کیلئے خود کو بے قصور قرار دیتے ہوئے عدالت میں درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔
غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق مقتول ایک 37 سالہ شخص ہے جو افیون کی لت میں مبتلا تھا اور مائیکل برک اور سمانتھا پیری کے ساتھ ہی رہتا تھا۔
مقتول کے اہل خانہ نے اس کے لاپتہ ہونے پر پولیس کو رپورٹ لکھوائی جس کے بعد کاررروائی کیلئے پولیس نے برک اور پیری کے گھر پر چھاپہ مارا جس پر پیری نے مزاحمت کی جس کے بعد پولیس نے دوبارہ سرچ وارنٹ لا کر گھر کی تلاشی لی۔
گھر کے تہہ خانے کی تلاشی کے دوران کچھ دیر بعد ہی ایک فریزر میں رکھی لاش برآمد ہوگئی، عدالتی دستاویز کے مطابق پولیس نے تاحال مقتول کی شناخت نہیں کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عدالتی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ پیری اور برک نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے 23 نومبر کو متاثرہ شخص پر حملہ کیا اور اس کے ہاتھ پائوں کرسی سے باندھ کر اس کے منہ پر ٹیپ لگا دی۔
دستاویز کے مطابق جوڑے نے کہا ہے کہ ایک تیسرے شخص نے اس کا گلا گھونٹنے کے لیے سبز رسی کا استعمال کیا جبکہ برک اور پیری نے لاش کو فریزر میں ڈالا۔ دستاویزات کے مطابق تیسرے شخص نے برک اور پیری کو بندوق کی نوک پر اس کام کیلئے پر مجبور کیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق متعلقہ حکام نے کہا ہے کہ وہ ابھی تک اس شخص کی موت کی وجہ کی تحقیقات کر رہے ہیں لیکن اان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں گھر کے اندر سے ایسے شواہد ملے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میاں بیوی کے بیان میں کسی حد تک صداقت ہے۔
ملزمہ پیری نے مبینہ طور پر اس واقعے میں ملوث تیسرے شخص کی شناخت کی ہے لیکن عدالتی دستاویزات سے اس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق چیف میڈیکل ایگزامینر پوسٹ مارٹم کے بعد اس شخص کی شناخت اور اس کی موت کی وجہ اور طریقہ کار کا تعین کرے گا۔


