ہماری ایکسپورٹ بڑھنے کی بجائے نیچے جارہی ہے، الیکشن کمیشن مجھے نااہل کر کے مزید ذلت کمائے گا

اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ گھڑی میری اپنی ذاتی چیز ہے، چاہے بیچوں یا جو بھی کروں-آج پاکستان کی 50 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ مہنگائی ہے اور انہیں مہنگائی کی بجائے میری گھڑی کی پڑی ہوئی ہے۔
اپنے ویڈیو بیان میں عمران خان نے کہا کہ ملک اگر ڈیفالٹ کی طرف چلا گیا تو یہ ہم سب کیلئے نقصان ہوگا، ڈیفالٹ ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرتا- قوم کو سمجھنا چاہیے کہ ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کو این آر او ٹو دیا گیا، این آر او ٹو کی وجہ سے ان کے سارے کرپشن کیسز ختم ہو رہے ہیں اور باری باری معاف ہو رہے ہیں۔ سب کو پتا ہے کہ انہیں ملک کے طاقتور نے این آر او ٹو دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کورونا کے باوجود ہم نے اپنی معیشت بچائی، ایکسپورٹ کے بڑھنے سے ملکی دولت میں اضافہ ہوتا ہے، جب تک ایکسپورٹ نہیں بڑھیں گی ملک ایشین ٹائیگرنہیں بن سکتا، ہماری ایکسپورٹ بڑھنے کی بجائے نیچے جارہی ہے۔ ہمارے دورمیں گندم کی ریکارڈپیداوار27.5ملین ٹن تھی- ہمارے دور میں مہنگائی کا سب سے زیادہ شور مچایا ہوا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ مجھے نااہل کیا جائے، میں اپنی ذات اور تحریک انصاف کیلئے الیکشن کی بات نہیں کررہاہوں، جب بھی الیکشن ہوں گے جیتنا ہم نے ہی ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا میری اسمبلی سے نکلنے کی تیاری دسمبر میں ہوجائے گی۔ الیکشن کمیشن مجھے نااہل کرنے کی تیاری کررہا ہے ، الیکشن کمیشن مجھے نااہل قرار دے کر مزید ذلت کمائے گا، موجودہ الیکشن کمشنر سے زیادہ بددیانت شخص پہلے کبھی نہیں آیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ امید رکھتا ہوں آرمی چیف جنرل عاصم منیر امر بالمعروف پر چلیں گے۔ نئے آرمی چیف کو ٹائم دینا چاہیے، جنرل عاصم منیر کی تعریفیں سنی ہیں وہ حافظ قرآن ہیں، ہم ان سے امیدیں لگا کر بیٹھے ہیں، فوج اور قوم اکٹھے چلتے ہیں، فوج مضبوط ہی تب ہوتی ہے جب قوم اکٹھی کھڑی ہو۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا: نیشنل سکیورٹی پالیسی پہلی مرتبہ ہماری حکومت نے بنائی جس میں واضح کیا تھا کہ ایک ملٹری اور دوسری اکنامک سکیورٹی ہوتی ہے۔ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
انہوں نے کہا روس معیشت گرنے کی وجہ سے ٹوٹ گیا۔ اس لیے نئے سیٹ اپ سے امید لگا کر بیٹھا ہوں۔ جس معاشی ماہر سے ملک کا پوچھیں انہیں آگے اندھیرا نظر آ رہا ہے۔ ہر روز پتا چلتا ہے کہ فلاں فلاں کا کیس ختم ہو گیا ہے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میرے اکیلے کا ملک نہیں لیکن میں نے اکیلے ٹھیکہ نہیں اٹھایا ہوا، نیشنل سکیورٹی کے ادارے دیکھیں ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، اس وقت کو سب کو ملک کا سوچنا چاہیے، جو ملک کے لیے سوچ رہا ہے وہ یہ نہیں چاہے گا کہ فاصلے ہوں، ملک کی سب سے بڑی پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان فاصلہ نہیں ہونا چاہیے۔

