ا عتماد کا ووٹ نہ لینے پر گورنر پنجاب نے رات گئے وزیراعلی پرویز الہی کو ڈی نوٹیفائی کردیا،فیصلہ چیلنج

صوبائی کابینہ بھی ختم ،نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب تک پرویز الہٰی روزانہ کی بنیاد پر بطور وزیراعلیٰ پنجاب اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے
رات کے اندھیرے میں اٹھاون ٹو بی کو زندہ کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ،گورنر کے خلاف ریفرنس بھیج رہے ہیں ، فواد چودھری

لاہور :گورنر پنجاب بلیغ الرحمن نے اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکامی پر وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی کو عہدے سے ڈی نوٹیفائی کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پنجاب کی کابینہ بھی تحلیل ہو گئی ہے،تاہم نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب تک پرویز الہٰی روزانہ کی بنیاد پر بطور وزیراعلیٰ پنجاب اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے۔جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ دووسری طرف پرویز الہٰی معاملے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے
گورنر نے رات گئے وزیراعلی پنجاب کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا آرڈر اپنے ٹوئٹر اکانٹ سے جاری کیا۔آرڈر کے مطابق گورنرپنجاب بلیغ الرحمن نے 19 دسمبر کو وزیراعلی پرویز الہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کی تھی۔
جاری حکم نامے کے مطابق 21 دسمبر سہ پہر چار بجے وزیراعلی پنجاب کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا گیا مگر 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود انہوں نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا، لہذا آئین کے آرٹیکل 30 کے مطابق صوبائی کابینہ کو ختم کیا جاتا ہے۔گورنر پنجاب کے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعلی پرویز الہی نئے وزیراعلی پنجاب کے انتخاب تک اپنا کام جاری رکھیں۔حکم نامے کی ایک نقل چیف سیکریٹری پنجاب کو بھی بھیجی گئی ہے جس میں اس پر عمل درآمد کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فواد چوہدری نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمن کی جانب سے وزیراعلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اس نوٹیفیکیشن کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں ہے، گورنر نے آئین کو پامال کیا ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ گورنر کے خلاف اسپیکر صدر مملکت کو ریفرنس لکھ رہے ہیں اور صدر عارف علوی سے کہا جا رہا ہے کہ گورنر کو ان کے عہدے سے ہٹایا جائے۔
بعد ازاں فواد چوہدری نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ اگر یہ اصول مان لیا جائے کہ گورنر اپنی مرضی سے وزیر اعلی کو گھر بھیج سکتا ہے تو پھر صدر اپنی مرضی سے
وزیر اعظم کو بھی گھر بھیج سکے گا، رات کے اندھیرے میں اٹھاون ٹو بی کو زندہ کرنے کی کوشش ناکام ہوگی۔
دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی نے گورنر کے اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کردیاہے۔
گورنر اور چیف سیکریٹری کے نوٹیفیکیشن کے بعد پرویز الہی نے اپنی رہائش گاہ پر ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، اسپیکر سبطین خان، مونس الہی، وزیر قانون بشارت راجا اور کچھ دیگر سینئر رہنما موجود تھے اور جمعہ کے لئے حکمت عملی تشکیل دی گئی۔
جمعے کی صبح گورنر پنجاب کی جانب سے وزیراعلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے خلاف پرویز الہی نے لاہور ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کردی۔پرویز الہی نے درخواست میں بذریعہ پرنسپل سیکرٹری اور چیف سیکرٹری گورنر کو فریق بنایا ہے جب کہ درخواست میں مقف اختیار کیا گیا ہیکہ اسپیکر کو وزیر اعلی کے اعتماد کے ووٹ کے لیے اجلاس بلانے کا کہا تھا، اسمبلی کا اجلاس پہلے سے چل رہا ہے اس لیے اسپیکر نے نیا اجلاس نہیں بلایا۔