عدلیہ کی عزت اس کے اپنے ہاتھ میں، وقت آگیا ہے کہ تمام ادارے ملک کی خاطر اپنا محاسبہ کریں

پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات کی تاریخ کے تعین کے حوالے سے عدلیہ کا ازخود نوٹس اس کے گلے کی ہڈی بنتا جارہا ہے
تین بڑی جماعتوں نے عدالت عظمی کی عزت کے حوالے سے بال جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی کے جال میں پھینک دی
بار کونسلز کے بھی اعتراضات ،رات بارہ بجے عدالتیں کھلنے پراعتراض کرنے والے آج عدلیہ کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے
عدالت کے باہر عرفان صدیقی اسمبلی میں خواجہ آصف کورٹ کے اندر محاذ فاروق ایچ نائیک نے سنبھالے رکھا،ساتھی ججز کی جانب سے بھی چیف جسٹس کو سبکی کا سامنا
عدالت نے آج آئین کی دستک سن لی لیکن ماضی میں جب آئین مدد کے لئے چلا رہا تھا اس وقت آمروں کے ہاتھ چومتی رہی


اسلام آباد(تجزیہ :محمد رضوان ملک)وطن عزیز میں جاری حالیہ بحران کے دوران اگر کسی ادارے کی عزت حقیقی معنوں میں دائو پر لگی ہے تو وہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ ہے۔ یہ مکافات عمل ہے جب ایک ہی بنچ ایک ہی جیسے کیس میں دو مختلف فیصلے سنائے گا تو اس کا ردعمل تو آئے گا۔
عدلیہ میں تقسیم اور مخصوص کیسز میں مخصوص بنچوں کے حوالے سے اعتراضات تو کافی عرصے سے سامنے آرہے تھے لیکن یہ لاوا پک کے پھٹا نہیں تھا کہ عدلیہ اپنی رہی سہی عزت خا ک میں ملانے کے لئے حرکت میں آگئی اور پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات کی تاریخ کے تعین کے حوالے سے ازخود نوٹس لے کر آبیل مجھے مار کی غلطی کر بیٹھی اور اب یہ از خود نوٹس اس کے گلے کی ہڈی بنتا جارہا ہے ۔
سپریم کورٹ میں سنئیر ججز کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ تو ایک عرصہ سے ڈھٹائی سے جاری تھا، لیکن سربراہ کی جانب سے من پسند ججز پر خصوصی نوازشات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔
چیف جسٹس کی جانب سے دو متنازعہ ترین ججز کی سفارش پرپنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کے تعین کے حوالے سے لیا گیا ازخود نوٹس بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ثابت ہوا اور اس حوالے سے چیف جسٹس کی جانب سے بنائے گئے بنچ پر اعتراضات اٹھنے شروع ہو گئے نہ صرف سیاسی جماعتیں بلکہ ملک بھر کی وکلاء تنظیمیں بھی عدالت عظمیٰ میں اس بے انصافی پر خاموش نہ رہ سکیں ۔
چیف جسٹس کے لئے ایک مشکل یہ بھی تھی کہ انہیں بنچ بہرحال عدالت عظمیٰ میں موجود ججز ہی سے بنانا تھاوہ سنئیر کو تو نظر انداز کر سکتے تھے لیکن جونئیر کو بھی تو ساتھ لے کر چلنا تھا۔اس طرح اس نو رکنی بنچ کی جانب سے سماعت کاآغاز ہوتے ہی ساتھی ججز نے بھی اس از خود نوٹس پر سوالات اٹھا دئیے
وکلاء کی طرح ملک کی تین بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی اور جے یو آئی ف نے کسی لگی لپٹی کے بغیر بنچ میں شامل کئے گئے متنازعہ ججز پر سوالات اٹھا دئیے۔
سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کے تعین کے حوالے سے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کا مشترکہ بیان پڑھتے ہوئے کہا کہ 2 ججز کے بینچ میں شامل ہونے پر اعتراض ہے، اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی اپنے آپ کو بینچ سے الگ کردیں۔
سپریم کورٹ کے بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔
دوران سماعت سابق اسپیکرز کے وکیل بیرسٹر علی ظفر، جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضی، پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک، نیئر بخاری، فرحت اللہ بابر، مسلم لیگ (ن) کے وکیل منصور اعوان، گورنر پنجاب کے وکیل مصطفی رمدے، وائس چیئرمین پاکستان بار، صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری، صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار شعیب شاہین، اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمن، پی ٹی آئی رہنما عامر محمود کیانی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
سماعت کے آغاز پر مسلم لیگ (ن) کے وکیل منصور اعوان نے مقف اپنایا کہ حکم کی کاپی ابھی تک دستیاب نہیں ہوئی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آج اکٹھے ہونے کا مقصد تھا سب کو علم ہوجائے، مختلف فریقین کے وکلا کو عدالت میں دیکھ کر خوشی ہوئی۔
فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہمیں کوئی نوٹس تو نہیں ملا، درخواست ہے سب کو نوٹس جاری کیے جائیں، بینچ کی تشکیل پر ہمیں 2 ججز پر اعتراض ہے، دونوں ججز کو بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔
دوران سماعت جے یو آئی (ف)، مسلم لیگ (ن)، پاکستان بار کونسل کی جانب سے 2 ججز پر اعتراض کیا گیا، اس موقع پر فاروق ایچ نائیک نے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کا مشترکہ بیان عدالت میں پڑھا، بیان میں کہا گیا کہ دونوں ججز مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) کے کسی بھی مقدمے کی سماعت نہ کریں۔دوران سماعت پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ نہایت احترام سے ججز کے بینچ میں شامل ہونے پر اعتراض کر رہا ہوں، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی کے بینچ میں شامل ہونے پر اعتراض ہے، اعتراض کرنے کا فیصلہ ہمارے قائدین نے کیا ہے۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جسٹس جمال مندوخیل کے نوٹ کے بعد جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی اپنے آپ کو بینچ سے الگ کر لیں۔انہوں نے کہا کہ میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جے یو آئی کا متفقہ بیان پڑھ رہا ہوں، تینوں سیاسی جماعتیں احترام سے کہتی ہیں کہ دو رکنی بینچ کا ازخود نوٹس کا حکم سامنے ہے، جسٹس جمال مندوخیل کا عدالت میں پڑھا گیا بیان بھی ہے، انصاف کی فراہمی اور فئیر ٹرائل کے تناظر میں دونوں ججز صاحبان کو بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔
اس موقع پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ 184/3 سے متعلق سمجھتا ہوں، کیوں نہ یہ معاملہ فل کورٹ میں سنا جائے، فاروق نائیک نے کہا کہ اس وقت میں اس کی گہرائی میں نہیں جائوں گا، میرا بھی یہی خیال ہے کہ معاملہ فل کورٹ میں سنا جائے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم پہلے کیس میں اس کے قابل سماعت ہونے پر بات کر یں گے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ معاملہ فل کورٹ سنے، فاروق نائیک نے کہا کہ چیف جسٹس سے درخواست کرتا ہوں کہ اس معاملے پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔
فاروق نائیک نے مشترکہ بیان کا متعلقہ پیراگراف پڑھتے ہوئے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی نے سوموٹو کا نوٹ لکھا، گزشتہ روز جسٹس جمال مندوخیل نے ایک نوٹ لکھا، جسٹس مندوخیل کا نوٹ انتہائی تشویشناک ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ کے پاس وہ نوٹ ہے، یہ نوٹ تو تحریری حکمنامہ کا حصہ ہے جس پر ابھی دستخط نہیں ہوئے، وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ ازخود نوٹس 2 رکنی بینچ کی سفارش پر لیا گیا، سوال یہ ہے کیا ایسے ازخود نوٹس لیا جاسکتا ہے، واضح کرتا ہوں کہ کوئی ذاتی وجوہات نہیں ہیں۔
چیف جسٹس کے اس ریمارکس پر کہ عام طور پر شہری عدالتی دہلیز پر دستک دیتے ہیں، آج آئین نے دستک دی عدالت کے باہر سینٹر عرفان صدیقی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو آج آئین کی دستک سنائی دے گئی لیکن ماضی میں اس کی چیخیں سنائی نہ دیں اور عدالت ان چیخوں کو نظر انداز کر کے آمروں کے ہاتھ چومتی رہی ۔
دوران سماعت عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے وکیل اظہر صدیق ویڈیو لنک پر پیش ہوئے، انہوں نے مقف اپنایا کہ عدلیہ کے خلاف جو زبان استعمال کی جارہی ہے اس پر نوٹس لیاجائے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ سیاسی معاملات کو پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے، اپنی جماعتوں سے کہیں کہ یہ معاملہ عدالت کیوں سنے جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اپنی جماعت سے اس معاملے پر ہدایت لوں گا۔
شیخ رشید کے وکیل نے مریم نواز کے جلسے کا نام لیے بغیر تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جلسے میں اعلی عدلیہ کے جج صاحبان کے خلاف تضحیک آمیز گفتگو کی گئی، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اس معاملے کو بعد میں دیکھیں گے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ جس سوال پر ازخود نوٹس لیا گیا یہ سیاسی معاملہ ہے، پارلیمنٹ لے کر جائیں، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ کیا آپ نہیں سمجھتے اس معاملے کو تمام ججز پر مشتمل فل کورٹ بینچ کو سنا جانا چاہیے، عدالت نے کہا پیر کے دن فل کورٹ بینچ بنانے یا نہ بنانے کے سوال پر سماعت ہوگی، پیر کے دن 2 ججز پر اٹھائے گئے اعتراض کو بھی سنیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کی سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ کے اس سوال کو بھی کارروائی کا حصہ بنا لیا گیا تھا کہ کیا دونوں اسمبلیاں آئین کے مطابق تحلیل کی گئیں جب کہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا تھا کہ ازخود نوٹس پر میرے تحفظات ہیں۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کی درخواست پر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی سماعت کے لیے 9 رکنی لارجربینچ تشکیل دے دیا تھا۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی درخواست پر لیے گئے از خود نوٹس میں کہا کہ عدالت کے دو رکنی بینچ کی جانب سے 16 فروری 2023 کو ایک کیس میں آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت از خود نوٹس لینے کی درخواست کی گئی تھی اور یہی سے معاملہ خراب ہوا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے معاملے پر از خود نوٹس کی سماعت کے لیے 9 رکنی لارجز بینچ تشکیل دیا ہے، جس میں سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس سردار طارق مسعود شامل نہیں ہیں۔
از خود نوٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ اس بات کا تعین کرے گی کہ آئین کے تحت مختلف حالات میں کسی صوبائی اسمبلی کے تحلیل ہونے کے بعد انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کی آئینی ذمہ داری اور اختیار کس کے پاس ہے۔