کامسٹیک کا یوگنڈا میں کلینیکل ٹرائلز پر تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

اسلام آباد، 20 مارچ : کامسٹیک نے یوگنڈا میں اسلامی یونیورسٹی کے تعاون سے "رینڈمائزڈ کلینیکل ٹرائلز” کے موضوع پر ایک دو روزہ تربیتی وکشاپ کا اہتمام کیا ہے۔ یہ ورکشاپ اسلامک یونیورسٹی یوگنڈا ، کمپالا،میں منعقد کی گئی۔
کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے تربیتی ورکشاپ کے شرکا کو آن لائن خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ اس تربیت کا مقصد ادویات کی دریافت اور ترقی کے لیے کلینکل ٹرائلز کے اہم شعبے میں صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق کلینیکل ٹرائلز، اچھے طبی طریقوں، ہیلتھ کیئر کوڈ آف ایتھکس، اور بائیو سیفٹی کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اور ریگولیٹری اور اسپانسر کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے سر انجام دینا ادویات اور ویکسینز بنانے
کے لیے انتہائی اہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں ترقی اور او آئی سی ممالک کی زیادہ شمولیت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی ورکشاپ صلاحیت کے خلا کو پر کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ڈاکٹر چودھری نے کہا کہ یہ کسی دوا یا ویکسین کے طبی مرحلے سے طبی اعتبار سے تصدیق شدہ مصنوعات کی طرف جانے کے طویل سفر میں ایک اہم مرحلہ ہے
۔او آئی سی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے سائنس و ٹیکنالوجی، عسکر مسینوف نے اس تربیتی ورکشاپ میں آن لائن شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس دو روزہ تربیتی ورکشاپ کی حمایت میں یہ پیغام آپ سب کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون کی تنظیم کامسٹیک اورآئی یو آئی یو کے اس مشترکہ اقدام کی حمایت کرتی ہے، اور مروجہ اور نظر انداز شدہ بیماریوں کے خلاف محفوظ اور موثر ادویات کی تیاری کے لیے کلینیکل ٹرائلز کی بے پناہ اہمیت کو تسلیم کرتی ہے۔ مسینوف نے کہا کہ کلینیکل ٹرائلز طبی سائنس میں مزید ترقی کے لیے سائنسی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کی ریاستوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس شعبے کو مضبوط بنیادوں پر استوار کریں اور نئی ادویات پر تبادلہ خیال کریں اور تیار کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔
صحت کے اقدامات کے بارے میں کنسلٹنٹ کامسٹیک، ڈاکٹر عبدالرشید، پروگرام آفیسر کامسٹیک، ماہم یامین، کنسلٹنٹ نیفرولوجسٹ، معروف انٹرنیشنل ہسپتال، پروفیسر ڈاکٹر مجتبی قادری، ڈائریکٹر اوریک، انڈس ہسپتال، ڈاکٹر عماد فہیم نے اس ورکشاپ میں پاکستان سے شرکت کی۔ جبکہ کامسٹیک کے ممتاز سکالر، اسپین کی گراناڈا یونیورسٹی سے پروفیسر ڈاکٹر خالد سعید خان نے بھی تربیت میں حصہ لیا۔
سو سے زاہد قومی اور بین الاقوامی شرکا نے اس ورکشاپ مین آن لائن حصہ لیا، جبکہ یوگنڈا کے ساٹھ محققین نے ذاتی طور پر تربیت میں حصہ لیا۔