عمران خان پر کیسز کتنے اور کس نے درج کرائے ،تفصیل سامنے آگئی

عمران خان پر 84 نہیں صرف 37 ایف آئی آر درج ہیں،کسی عدالت نے وارنٹ گرفتاری کینسل نہیں کئے ،24 نیوزتفصیل سامنے لے آیا


اسلام آباد:سرکاری دستاویزات میں عمران خان کے کیسز کی تعداد سامنے آ گئی،24 نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی چئیر مین عمران خان مختلف عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کررہے ہیں،اب تک کسی عدالت نے عمران خان کے گرفتاری وارنٹ نہ کینسل کیے ہیں اور نہ ہی انہیں حفاظتی ضمانت دی ہے۔ اس کے باوجود عمران خان کا کہنا کہ وہ حفاظتی ضمانت پر ہیں اس بات کی گواہی ہے کہ وہ قانون کو اپنے پاں تلے روند رہے ہیں۔گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنا ایک قانونی عمل ہے جس کے خلاف ہٹ دھرمی دکھانا صریحا ایک غیر قانونی حرکت ہے۔
عمران خان اس بات پر بھی جھوٹ بول رہے ہیں کہ ان پر 84 کیس ہو چکے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں صرف 37 ایف آئی آریں درج ہوئی ہیں (28 اسلام آباد میں، 6 پنجاب میں اور 1 بلوچستان میں) اور 2 ایف آئی اے کے کیس ہیں۔یہ ایف آئی آرز حکومت نے نہیں بلکہ شہریوں کی درخواستوں پر عمران خان کے جرائم کی وجہ سے درج ہوئی ہیں۔ لہذا اس پر بھی عمران خان کو گمراہی پھیلانا بند کرنی ہوگی۔عمران خان خود کو مظلوم دکھانا چاہ رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ حکومت کو کھلم کھلا چیلنج کر رہے ہیں۔
دوسری طرف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمہ میں سی ٹی ڈی اسلام آباد نے عمران خان سمیت 17 شخصیات کو طلب کرلیا ۔پی ٹی آئی کی قیادت کو مقدمہ میں شامل تفتیش ہونے کیلئے حکم نامہ بھجوایا گیا ہے ،عمران خان ،مراد سعید ،عامر کیانی ،امجد نیازی ،راجہ خرم نواز ، علی امین گنڈا پور کو بھی بلایا گیا ہے،شبلی فراز ،اسد عمر، ڈاکٹر شہزاد وسیم بلائے جانے والوں میں شامل ہیں،فرخ حبیب ،عمر ایوب، حماد اظہر، اسد قیصر، حسان خان نیازی کا نام بھی شامل ہیں،عمران خان کے سی ایس او کرنل ریٹائرڈ عاصم کو بھی بلایا گیا ہے ،ان تمام کو تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمہ میں بلایا گیا ہے ۔
اس کے علاوہ عمران خان ،اسد عمر ،علی نواز اعوان ،عامر مغل ،جمشید خان سمیت 10 افراد کو تھانہ گولڑہ میں درج مقدمہ میں بلایا گیا ہے ،تمام افراد شامل تفتیش ہو کر اپنا موقف پیش کریں گے ،پیش نہ ہونے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔