
بیجنگ(شِنہوا)چین کی طرف سے دنیا کے لیے پیش کردہ بیلٹ اینڈ روڈ کا منصوبہ عصر حاضر کے جدید دور میں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے،یہ منصوبہ مختلف ممالک کے بے شمار نوجوانوں کواپنے ممالک کی خوشحالی اور ہم وطنوں کے فائدہ کے لیے شرکت کی دعوت دے رہا ہے۔پاکستانی نوجوان محمد عمار بھی ان میں سے ایک ہیں۔عمار نے نہ صرف علم حاصل کرنے کے لیے بلکہ اپنے خواب کی تعبیر کے لیے چین کے ہائی اسکول اور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی ہے۔عمار مسلسل اس سوچ میں رہتے ہیں کہ وہ چین اور پاکستان کے درمیان بین الاقوامی تعاون کو بڑھانے کے لیے اپنی سب سے بہترین کوشش کیا کرسکتے ہیں۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک کی جاری تعمیر نے ہمیشہ عمار پر گہرا تاثر چھوڑ ا ہے ۔ عمار نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بیلٹ اینڈ روڈ پاکستانی نوجوانوں کے لیے ایک نئی دنیا کی طرف دروازہ کھولتا ہے جو یقینی طور پر پاکستانی معاشرے کی ترقی میں اضافہ کرے گا اور پاکستانی نوجوانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ عمار کی نظر میں، سی پیک کی کامیابی کے لیے ایسے پاکستانی ہنرمندوں کی فوری ضرورت ہے جو چینی زبان پر عبور حاصل کریں، چینی ثقافت سے واقف ہوں اور اعلی سائنسی اور تکنیکی صلاحیتوں کے حامل ہوں۔اس حقیقت نے عمار کے ذہن کو روشن کردیاہے کہ 30 سال سے کم عمر کے چند پاکستانی نوجوان ہی سی پیک کی تعمیر کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔حالیہ برسوں میں چینی حکومت نے پیشہ ورانہ تعلیم کی ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے بڑی کوششیں کی ہیں۔ عمار نے چین کے بہت سے شہروں میں پیشہ ورانہ تعلیم کے بہت سے اسکولوں پر فیلڈ سروے کیے اور اچھی طرح سے محسوس کیا کہ پیشہ ورانہ تعلیم پاکستانیوں کی مدد کر سکتی ہے۔ عمار کا کہنا ہے کہ اگر وہ پاکستان میں نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تکنیکوں میں مہارت حاصل کرنے میں مدد کر سکتا ہے تو وہ خود کو ترقی دینے اور غربت سے باہر نکلنے کے زیادہ مواقع حاصل کر سکیں گے،پیشہ ورانہ تعلیم اور اعلی معیار کی تکنیکی صلاحیتوں کی آبیاری بہت اہم ہے جو حقیقی معنوں میں ۔ سی پیک کی تعمیر کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔
2019 میں، بیجنگ گلوبل ٹیلنٹ ایکسچینج ایسوسی ایشن کے تعاون سے، عمار نے 19 پاکستانی طلبا کے لیے گوانگ شی ٹرانسپورٹ ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل کالج میں تعلیم حاصل کرنے کا بندوبست کیا ، اور متعلقہ تربیت کے سلسلے میں حصہ لیا۔ عمار کو جس چیز کی سب سے زیادہ توقع تھی وہ یہ تھی کہ چین کے اعلی تعلیمی وسائل کو مکمل طور پر استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے لیے پیشہ ورانہ مہارت کے حامل نوجوانوں کی ایک کھیپ تیار کی جائے اور غریب گھرانوں میں پیدا ہونے والے ان طلبا کی قسمت بدلنے میں بھی مدد کی جائے۔پاکستان میں پیشہ ورانہ تعلیم کو بہتر بنانے کے حوالے سے عمار نے 2022 میں ایک بین الاقوامی ٹیلنٹ ایکسچینج انسٹی ٹیوٹ "تانگ انٹرنیشنل ایجوکیشن گروپ” میں کام کرنے کا ارادہ کیا۔چین-پاکستان انٹرنیشنل انڈسٹری-ایجوکیشن کوآپریشن الائنس کا باضابطہ طور پر اس سال فروری میں بیجنگ میں قیام عمل میں آیا اور عمار اس اتحاد کے پاکستانی سیکرٹری جنرل بن گئے۔سی پیک کی تعمیر میں معاونت کے لیے یہ اتحاد تحقیقی صلاحیت اور تکنیکی مہارتوں کے ساتھ ہنر مند افراد کی تیاری کے لیے چینی اور پاکستانی دونوں ممالک کے وسائل کو بروئے کار لائے گا۔ عمار نے بتایا کہ یہ اتحاد اگلے چند سالوں میں چین سے تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے 210 تدریسی معیارات متعارف کرانے میں پاکستان کے 3ہزارسے زائد پیشہ ورانہ تعلیمی کالجوں کی مدد کرے گا۔ اس کے علاوہ، اتحاد پہلے ہی 20 سے زائد چینی کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ساتھ چین پاکستان دوہری ڈگری کے تعاون منصوبے کو مکمل کرچکا ہے۔عمار نے کہا کہ ہم نے چینی یونیورسٹیوں اور کالجوں جن میں گوئی ژویونیورسٹی، شین ژین انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شامل ہیں کی پاکستان میں تکنیکی تربیتی مراکز قائم کرنے میں مدد کی ہے اور ہمارا یہ منصوبہ ہے کہ کم از کم 10ہزار پاکستانی نوجوان آف لائن
یا آن لائن سالانہ تعلیم کے ذریعے نمایاں ترقی حاصل کریں گے۔عمار کی نظر میں، عالمی اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے محرک کے طور پر سی پیک نے متعدد شعبوں میں تعاون کے ذریعے اقتصادی اور سماجی پہلوں سے پاکستان کی خوشحال ترقی میں بھرپور شراکت کی ہے۔عمار کو امید ہے کہ اتحاد کی مدد سے پاکستانیوں کی پیشہ ورانہ مہارت، کیرئیر کی اخلاقیات اور ای کامرس کی صلاحیتوں کو بہتر اور پاکستان کی پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔عمار اور چین کے درمیان کی کہانی اور ان کی عقیدت، نہ صرف چین اور پاکستان کے درمیان قابل قدر دوستی کی تصدیق کرتی ہے، بلکہ "ون بیلٹ، ون روڈ” کے تعلیمی میدان میں بھی واضح عمل کی تصدیق کرتی ہے۔
عمار نے بتایا کہ بچپن میں ان کا بغیر پائلٹ والی ہوائی گاڑیوں سے بہت لگاو تھا لیکن اب میں سوچتا ہوں کہ اپنے ملک اور اپنے ہم وطنوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کوشش کرنا اس سے بھی زیادہ اہم ہے میری تمام کوششیں نہ صرف اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے ہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو ان کے خوابوں کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے ہیں جو دونوں ممالک کے تعاون اور دوستی کو مشترکہ طور پر مزید خوبصورت اور خوشحال بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔



