دو محبت بھرے دلوں کو آخر اسلام کے دامن میں ہی پناہ لینا پڑی

ممبئی / اسلام آباد:ماضی کے معروف فلمی جوڑی ہیما مالنی اور دھرمیندر نے محبت کی شادی کی تھی ،لیکن کیا آپ کو پتہ ہے کہ انہیں اپنی محبت کو پروان چڑھانا کے لئے اسلام کے دامن میں ہی پناہ لینا پڑی۔ اس سے ثابت ہوا کہ اسلام دو دلوں کو جوڑنے میںبھی آپ کا معاون ہے۔
آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ ڈریم گرل ہیما مالنی سے شادی کرنے کیلئے لیجنڈری اداکار دھرمیندر کو اسلام مذہب کیوں قبول کرنا پڑا تھا؟
اداکاردھرمیندر کی شادی 19 سال کی عمر میں پرکاش کور نامی خاتون سے ہو گئی تھی مگر جیسے ہی ہیما مالنی نے فلمی دنیا میں قدم رکھا تو دھرمیندر پہلی ملاقات میں ہی ان پر دل ہار بیٹھے۔
ہیما مالنی سے ملنے سے پہلے اہلیہ پرکاش کور سے ان کے 2 بچے سنی اور بوبی دیول تھے۔ اور ہندو مذہب کے مطابق پہلی بیوی کے زندہ ہوتے ہوئے کوئی بھی شخص دوسری شادی نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس مشکل سے نکلنے اور شادی کرنے کیلئے دھرمیندر اور ہیما مالنی نے اسلام مذہب قبول کر لیا، یوں انہیں اپنے نام بھی تبدیل کرنے پڑے۔ قبول اسلام کے بعد دھرمیندر کا نام دلاور اور ہیما مالنی کا نام عائشہ بی آر چکرورتی رکھا گیا۔ تاہم یہ عملی طور پر مسلمان ہیں یا نہیں اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
اس کے علاوہ ہیما مالنی نے برسوں بعد ایک انٹرویو میں سوتیلے بیٹے و سپر اسٹار سنی دیول سے متعلق یہ انکشاف کیا تھا کہ اس سے میرے تعلقات بہت اچھے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جب مجھے سڑک حادثے میں چوٹیں آئیں تو سب سے پہلے اسپتال پہنچنے والا سنی دیول ہی تھا۔ یہی نہیں بلکہ ڈاکٹرز سے بھی فکر مند ہو کر پوچھتے رہے کہ انہیں زیادہ چوٹیں تو نہیں آئیں، اب انہیں غذا میں کیا کیا چیزیں کھلائیں جس سے ان کی طبعیت میں جلد بہتری آئے۔
یاد رہے کہ ہیما مالنی اور دھرمیندر نے ماضی میں کئی فلموں میں ایک ساتھ کام کیا تھا۔فلم شعلے میں دھرمیندر او ر ہیما مالنی کی جوڑی کو بہت پسند کیا گیا تھا۔

